اسد قیصر کی اسرائیل اور غزہ سے متعلق پالیسی پر حکومت پر شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسد قیصر نے اسرائیل اور غزہ سے متعلق پالیسی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایسے حساس اور اہم قومی فیصلوں پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اسد قیصر نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے غزہ امن معاہدے سے متعلق بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حساس قومی معاملے پر ”آئیں بائیں شائیں“ کرنے سے قوم کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ غزہ اور فلسطین جیسے نازک مسئلے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ سینیٹر مشتاق فلسطینیوں کے لیے امداد لے جا رہے تھے، اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا، حکومت فوری اقدام کرے۔ اسد قیصر کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے کھل کر بات نہیں کی، اہم فیصلے پردے کے پیچھے طے کیے جا رہے ہیں، جنہیں عوام کے نمائندوں سے چھپایا جا رہا ہے۔ اتنے بڑے فیصلے بغیر مشاورت کے کیے جا رہے ہیں، نہ پارلیمنٹ سے بات ہوئی، نہ اتحادیوں سے، نہ قوم کو اعتماد میں لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکات منظر عام پر آنے سے پہلے ہی وزیراعظم ہر شرط مان چکے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پہلے ہی جھک چکی ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ اسد قیصر نے واضح کیا کہ اگر فلسطینیوں کی مشاورت کے بغیر کوئی معاہدہ کیا گیا تو وہ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں مانا جائے گا جس میں فلسطینیوں کی رائے شامل نہ ہو۔ رہنما پاکستان تحریکِ انصاف نے یہ بھی کہا کہ حرم شریف کے لیے ہم سب کی جانیں قربان ہیں، لیکن اس جذبے کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔