مجوزہ غزہ امن معاہدے کی حمایت، وزیراعظم نے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیئے،اسد قیصر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)رہنما تحریک انصاف اسد قیصر کا کہنا ہے کہ مجوزہ غزہ امن معاہدے کی حمایت کرکے وزیراعظم نے پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیئے۔ مطالبہ ہے وزیراعظم اپنی قوم سے معافی مانگیں۔ فلسطینیوں کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ قبول نہیں۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ معاہدے کے لیے فلسطین کی رائے کو اہمیت نہیں دی گئی، کیا 8 اسلامی ممالک کے ایک بھی سربراہ نے ٹویٹ کیا؟ وزیراعظم نے ٹویٹ کر کے پاکستانیوں کے جذبات کو مجروح کیا۔
پنجاب میں فضائی آلودگی اور زہریلے مادوں کی نگرانی کی ہر8 گھنٹے بعد تازہ ترین رپورٹ جاری ہوگی
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ نے تفصیل سامنے رکھی مگر خود کنفیوژنظر آئے، وزیر خارجہ اصل معاملات پر آئیں بائیں شائیں کرتے رہے، عالمی معاملات پر پارلیمنٹ سے تجاویز لینی چاہیے تھیں مگر لگتا ہے حکومت نے اپنے لوگوں سے بھی مشاورت نہیں کی۔
سابق اسپیکر نے کہا کہ گلوبل فلوٹیلا کے 450 سے زائد لوگ گرفتار کیے گئے، گرفتار افرادکی رہائی کے لیے سفارتی کردار ادا کیا جائے، حرمین شریفین کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھے گا توقوم مقابلہ کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔