اگر ٹرمپ دو ریاستی حل کی طرف جاتے ہیں تو روس حمایت کرے گا، پیوٹن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ دو ریاستی حل کی طرف پیش رفت کرتے ہیں تو روس اس کی مکمل حمایت کرے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل کے ساتھ فلسطینی ریاست کا قیام خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔
روسی صدر نے زور دیا کہ تمام فریقین کو اسرائیلی افواج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا کے لیے ایک واضح ٹائم لائن پر متفق ہونا چاہیے تاکہ مکمل امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب مزید کسی فائرنگ یا فوجی کارروائی کا آغاز نہیں ہوگا۔
JUST IN: ???????????????? President Putin says Russia is “ready to support” President Trump’s peace proposal for Israel and Gaza.
— BRICS News (@BRICSinfo) October 2, 2025
روسی صدر نے یوکرین کو سخت پیغام دیا کہ وہ جوہری تنصیبات پر حملوں سے باز رہے۔ پیوٹن نے کہا کہ روس کوئی ’پیپر ٹائیگر‘ نہیں ہے، بلکہ نیٹو کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یوکرین کو میزائلوں کی فراہمی جنگ کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔
پیوٹن نے واضح کیا کہ روس خطے میں طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی حل کا حامی ہے، لیکن اگر اس کے مفادات یا سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔