موضوع: امام حسن عسکری علیہ السّلام کا تنظیمی نظام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں
پروگرام دین و دنیا
موضوع: امام حسن عسکری علیہ السّلام کا تنظیمی نظام
مہمان : حجہ الاسلام و المسلمین جناب عون علوی
میزبان: محمد سبطین علوی
موضوعات گفتگو:
تشیع کے تنظیمی نظام کا آغاز کب اور کیسے؟
امام حسن عسکری علیہ السّلام کے تنظیمی نظام کے اہداف
امام حسن عسکری علیہ السّلام کے تنظیمی نظام کے لئے اقدامات
خلاصہ گفتگو:
تشیع کا تنظیمی نظام دراصل ائمہ اطہار علیہم السّلام کے دور میں ہی آغاز پذیر ہوا۔ امام جعفر صادق علیہ السّلام کے زمانے میں وکالت اور نمائندگی کے ذریعے اس نظام کی بنیاد رکھی گئی جسے بعد کے ائمہ نے مزید مضبوط کیا۔ امام حسن عسکری علیہ السّلام کے دور میں عباسی حکومت کی سخت نگرانی اور محدود آزادیوں کے باوجود یہ نظام ایک منظم صورت اختیار کر گیا۔
امام حسن عسکری علیہ السّلام کے تنظیمی نظام کا سب سے اہم ہدف شیعہ معاشرے کو فکری، اعتقادی اور سیاسی طور پر مستحکم بنانا اور آئندہ آنے والے غیبت کے دور کے لیے انہیں تیار کرنا تھا۔ اس نظام کے ذریعے شیعہ پیغام کو محفوظ رکھنا، رابطہ قائم رکھنا اور قیادت کی ہدایات پہنچانا ممکن ہوا۔
امام علیہ السّلام نے اس مقصد کے لیے مختلف علاقوں میں اپنے نمائندے اور وکلاء مقرر کیے، خطوط اور پیغامات کے ذریعے شیعہ عوام سے رابطہ رکھا اور تقیہ کے ذریعے دشمن کی سازشوں سے تحفظ فراہم کیا۔ یہ اقدامات تشیع کے بقا اور استحکام کے ضامن ثابت ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امام حسن عسکری علیہ الس لام کے کے تنظیمی نظام کے ذریعے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔