ایران، روس اور آذربائیجان علاقائی تعاون پر اجلاس منعقد کرینگے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
آذر نیوز ویب سائٹ کے مطابق سہ فریقی اجلاس میں ایران کی سڑکوں اور شہری ترقی کی وزیر فرزانہ صادق، جمہوریہ آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفائیف اور روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اورچوک شرکت کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ٹرانسپورٹ، توانائی اور کسٹم کے شعبوں میں علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کے لئےایران، روس اور آذربائیجان کے نمائندے 13-14 اکتوبر کو باکو میں ملاقات کریں گے۔ آذر نیوز ویب سائٹ کے مطابق سہ فریقی اجلاس میں ایران کی سڑکوں اور شہری ترقی کی وزیر فرزانہ صادق، جمہوریہ آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفائیف اور روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اورچوک شرکت کریں گے۔ اجلاس کے ایجنڈے میں ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس، توانائی اور کسٹم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا شامل ہے، یہ علاقے تینوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
ایران، روس اور آذربائیجان کے درمیان سہ فریقی اجلاس حالیہ برسوں میں اقتصادی، راہداری اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے علاقائی کوششوں کے حصے کے طور پر منعقد کیے گئے ہیں۔ یہ ملاقاتیں عام طور پر ٹرانسپورٹ اور انرجی کوریڈورز کو ترقی دینے اور تینوں ممالک کے درمیان تجارت کو آسان بنانے پر مرکوز ہوتی ہیں۔ یہ اجلاس سابقہ معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے اور سہ فریقی تعاون کی راہ میں عمل درآمد کے چیلنجوں کا جائزہ لینے کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے نائب وزیراعظم آذربائیجان کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔