حیدرآباد سے کراچی سپلائی ہونیوالا 25من مضر صحت گوشت برآمد
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) سندھ فوڈ اتھارٹی کی آپریشن ونگ نے قومی شاہراہ بائی پاس پر کارروائی کرتے ہوئے 25 من سے زائد گوشت ضبط کرلیا، جو نجی سلاٹر ہاؤس سے کراچی فروخت کے لیے سپلائی کیا جا رہا تھا۔ ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز ڈاکٹر اسد جہانگیر کے مطابق گوشت پر سرکاری سلاٹر ہاؤس کی مہریں لگائی گئی تھیں لیکن میٹ فیٹنس سرٹیفکیٹ موجود نہیں تھا۔ حفظان صحت ایس او پیز کے برخلاف مختلف جانوروں کا گوشت مکس کر کے رکھا گیا تھا، اور سندھ فوڈ اتھارٹی کی ٹیم کو کارروائی کے دوران مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس پر ایک شخص کو پولیس نے حراست میں لیا ہے۔ ڈاکٹر اسد جہانگیر نے بتایا کہ گوشت کے نمونے لیب ٹیسٹ کے لیے بھیجے جائیں گے اور تمام ضبط شدہ گوشت کو تلف کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ حفظان صحت قوانین پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوام کو معیاری اور محفوظ کھانے پینے کی اشیاء فراہم کی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں شرینہ کو بیٹوں سمیت گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کے مطابق شیریں شرینہ ملزمہ کو دونوں بیٹوں کے ساتھ کامران چورنگی سے گرفتار کیا گیا، ملزمہ ہیروئن، چرس اور دیگر منشیات فروخت کرتی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ چند سال قبل گرفتار ہوکر جیل گئی تھی اور دو سال پہلے واپس آئی تھی، ملزمہ شیریں عرف شیرینہ کے خلاف 35 کے قریب مقدمات درج ہیں، ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سےدستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔پولیس حکام کا بتانا ہے کہ ملزمہ اپنے فلیٹ کی کھڑکی سے ڈائریکٹ ہیروئن سپلائی کرتی تھی، گرفتار ملزمہ اور ملزمان سے مذید تفتیش کی جارہی ہے۔