پنجاب، دوردرازعلاقوں میں گھر گھربوتل بند پانی مہیا کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 اکتوبر2025ء) پنجاب حکومت نے دور دراز علاقوں میں گھر گھر بوتل بند پانی مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 11.5 لاکھ افراد کا علاج کیا گیا۔ پنجاب نے سرویکل کینسر ویکسی نیشن میں ریکارڈ قائم کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے اسپیشل افراد کے گھروں تک پہنچ کر مدد کرنے اور دسمبر تک صوبے میں الیکٹرک بسیں چلانے کا حکم دیا ہے۔
(جاری ہے)
اجلاس میں پنجاب بھر کے لیے الیکٹرک بس اسٹاپ کا یکساں ڈیزائن بھی منظور کرلیا گیا۔علاوہ ازیں 31 دسمبر تک پنجاب کے 25 اضلاع میں واسا قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں 5 ہزار سے زائد بند فلٹریشن پلانٹ فعال کیے گئے ہیں۔ لاہور ڈیولپمنٹ پراجیکٹ کا پہلا فیز 30 نومبر تک مکمل ہوگا۔ لاہور میں 4624 گلیوں کی تعمیر و بحالی مکمل کرلی گئی ہے۔ اجلاس میں نئی گلیوں میں توڑ پھوڑ پر سخت کارروائی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔