عمر ایوب اور شبلی فراز کی ڈی سیٹ کرنے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب اور شبلی فراز کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر بیرسٹر گوہر نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
پشاور ہائیکورٹ نے یکم اکتوبر کو دونوں رہنماؤں کو ڈی سیٹ کرنے کے فیصلے پر دیا گیا حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی تھی۔ عدالت نے عمر ایوب کو مجاز فورم کے سامنے سرنڈر کرنے کی بھی ہدایت کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی چیف جسٹس سے ملاقات کی خواہش، سپریم کورٹ میں درخواست دائر
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن نے شبلی فراز اور عمر ایوب کو سزائیں ہونے کے بعد ان کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
دونوں رہنما اپنی سزاؤں کے خلاف اپیلیں متعلقہ فورمز پر دائر کرچکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی سپریم کورٹ شبلی فراز عمر ایوب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سپریم کورٹ شبلی فراز عمر ایوب ڈی سیٹ کرنے سپریم کورٹ شبلی فراز عمر ایوب
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔