امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی کی وجہ سے دنیا عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے، محمد ایوب مغل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
جے یو پی جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ پر ہونے والے اسرائیلی ظلم پر مسلمان ممالک کا عملی اقدامات نہ کرنا مسلمان حکمرانوں کی بے حسی ہے، آج پوری دنیا میں مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی اس ظلم پر سر اپا احتجاج ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر اور ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب کے سیکرٹری جنرل محمد ایوب مغل نے کہا ہے کہ دو سال سے غزہ میں مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے کوئی روکنے والا نہیں، اقوام متحدہ امریکہ کی لونڈی ہے۔ اسرائیل کے ظلم و بربریت کی سرپرستی امریکہ کر رہا ہے جو کہ کھلی دہشت گردی ہے اور یہ دہشت گردی دنیائے انسانیت کی بقا کے لیے خطرہ ہے، اسرائیل اور امریکہ کی ہٹ دھرمی دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے، اسرائیل کے خلاف حکومتوں کو مزمتی قراردادوں کی بجائے پر عملی طور پر مرمتی کردار ادا کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ غزہ پر ہونے والے اسرائیلی ظلم پر مسلمان ممالک کا عملی اقدامات نہ کرنا مسلمان حکمرانوں کی بے حسی ہے، آج پوری دنیا میں مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی اس ظلم پر سراپا احتجاج ہیں۔ مسلم حکمرانوں کو اپنی بے حسی کو ختم کرنا ہوگا۔ ورنہ یہ ظلم و بربریت کی آگ سب کو باری باری اپنی لپیٹ میں لے گی۔ امریکہ اور اسرائیل کی دہشت گردی کی وجہ سے دنیا عالمی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہے۔ انسانیت کی بقا کے لیے اس کو روکنا ضروری ہے، اس جدید دور میں غزہ اور فلسطین کے لوگوں کو غذا اور ادویات سے دور رکھنا علاج معالجہ سے دور رکھنا درندگی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔