جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس، پی ٹی آئی متعدد رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
جج طاہر عباس سپرا نے شبلی فراز ، علی نوازاعوان اور طاہر صادق کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے
عدالت نے بانی پی ٹی آئیکیلئے وزارتِ داخلہ کودوبارہ خط لکھ دیا،حسان نیازی کی رپورٹ طلب
جوڈیشل کمپلیکس توڑپھوڑ کیس میں شبلی فراز کے ناقابل ضمانت جبکہ علی نواز اور طاہر صادق کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس توڑ پھوڑ کیس میں تحریک انصاف کے متعدد رہنماوں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جبکہ طاہر صادق اور علی نواز اعوان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے وزارتِ داخلہ کو ایک بار پھر خط لکھ دیا اور ان کے بھانجے حسان نیازی کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی۔ کیس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر مراد سعید اور حماد اظہر پہلے ہی اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔ عدالت نے مزید سماعت یکم نومبر تک ملتوی کر دی
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کے وارنٹ گرفتاری جاری پی ٹی ا ئی عدالت نے
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔