data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (رپورٹر )جماعت اسلامی بدین کی جانب سے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت اور غزہ کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی اور ٹرمپ امن منصوبہ و سینیٹر مشتاق احمد کی گرفتاری کے خلاف بدین پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ مظاہرین کی اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے خلاف شدید نعرے بازی، مشتاق احمد خان کی گرفتاری کی مذمت کی جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی کال پر غزہ اور فلسطین پر وحشیانہ اسرائیلی جارحیت اور نسل کشی کے خلاف بدین پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ مظاہرے میں شریک افراد نے اسرائیل اور امریکا کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مظاہرے سے جماعت اسلامی ضلع بدین کے امیر انجینئر سیدعلی مردان شاہ گیلانی نائب امیر ضلع اللہ بچایو ہالیپوٹہ ،جنرل سیکرٹری عبدالکریم بلیدی ،اسسٹنٹ سیکرٹری علی گل منصوری، مقامی امیر ایازلطیف سومرو اور دیگر نے شرکت کی اور مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ضلع بدین کے امیر انجینئرسیدعلی مردان شاہ گیلانی نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں انسانیت کی نسل کشی کر رہا ہے جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔ ہم مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ انہوںنے مشتاق احمد خان کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کی گرفتاری فوری طور ختم کرکے رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن آواز کو دبانا غیر جمہوری عمل ہے۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے فوری ایکشن لے اور فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کرے۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کی گرفتاری کے خلاف

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم