data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین (نمائندہ جسارت)سندھ بھر کے سرکاری ملازمین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں دفاتر، سکول اور ہسپتال بند کر دیئے۔ حکومت سندھ ملازمین کو پریشان کرنے پر ایک ہوئے ہیں ۔ یہ بات تحریک لبیک پاکستان کے رہنما پیر آغا محمد عمر جان سرہندی۔ پیر ھجت اللہ جان سرہندی، نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے سرکاری ملازمین پنشن رولز میں ترمیم کر کے مہنگائی کے اس دور میں پنشن میں زبردست کمی پر مطالبہ کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے سرکاری ملازمین اساتذہ کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں اساتذہ کا بڑا کردار ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کی پنشن رولز میں ترمیم کرکے پنشن 65 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے، ڈی آر اے الاؤنس کی عدم ادائیگی اور دیگر ملازمین مخالف اسکیموں کے خلاف گزشتہ کئی روز سے احتجاج جاری ہے۔ سندھ حکومت اپنی آنکھیں کھولے۔ حکومتی اداروں میں بڑا بحران پیدا نہیں ہو رہا۔ ملازمین کے جائز مسائل ہیں ان کو فوری حل کیا جائے تاکہ ملازمین میں مسائل کا پھیلاؤ نہ ہو۔ بے چینی ختم ہو سکتی ہے۔ پیر آغا محمد عمر جان سرہندی نے مزید کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے سندھ حکومت ملازمین کی تنخواہوں سے کٹی ہوئی رقم بشمول گروپ انشورنس اور بنوئل فنڈ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو نہیں دے رہی جو کہ ان ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کا حق ہے۔

beta4admin25.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین سندھ حکومت

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن