Express News:
2026-06-03@02:51:06 GMT

گلوکار زوبین گارگ کو کس نے قتل کی سازش کر کے زہر دیا؟

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

بھارتی گلوکار زوبین گارگ کی موت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، آنجہانی گلوکار کے بینڈ کے ساتھی شیکھر جیوٹی گوسوامی نے الزام عائد کیا ہے کہ گلوکار کو ان کے مینیجر سدھارتھ شرما اور فیسٹیول آرگنائزر شیمکانو مہنتا نے زہر دے کر قتل کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق گوسوامی کا کہنا ہے کہ مینیجر اور فیسٹیول آرگنائزر نے گلوکار کی موت کو حادثاتی ظاہر کرنے کی کوشش کی اور یہ واقعہ غیر ملکی مقام پر اس لیے پیش آیا تاکہ جرم کو چھپایا جا سکے۔

گوسوامی کا کہنا ہے کہ شرما واقعے سے قبل مشکوک رویہ اختیار کیے ہوئے تھا اور اس نے کشتی کے عملے سے زبردستی کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ جب زوبین کو پانی میں سانس لینے میں دشواری ہوئی تو شرما نے مدد کرنے کے بجائے دوسروں کو روک دیا۔ گوسوامی کے مطابق، زوبین ایک ماہر تیراک تھے، اس لیے ان کی موت صرف ڈوبنے سے ممکن نہیں۔

گلوکار کی اہلیہ گارما سائیکیا گارگ نے بھی کہا کہ انہیں سازش کا شک ہے، کیونکہ زوبین کو دل کا کوئی عارضہ نہیں تھا اور انہیں پانی کے قریب جانے سے منع کیا گیا تھا۔ 

دوسری جانب زوبین کے منینیجر شرما اور مہنتا نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی شواہد کو قابلِ اعتبار قرار دیا ہے، جبکہ آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کیس کی مکمل تحقیقات کی جا سکے۔

یاد ریے کہ زوبین گارگ 19 ستمبر کو سنگاپور میں یٹ آؤٹنگ کے دوران ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت