گلوکار زوبین گارگ کو کس نے قتل کی سازش کر کے زہر دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
بھارتی گلوکار زوبین گارگ کی موت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، آنجہانی گلوکار کے بینڈ کے ساتھی شیکھر جیوٹی گوسوامی نے الزام عائد کیا ہے کہ گلوکار کو ان کے مینیجر سدھارتھ شرما اور فیسٹیول آرگنائزر شیمکانو مہنتا نے زہر دے کر قتل کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گوسوامی کا کہنا ہے کہ مینیجر اور فیسٹیول آرگنائزر نے گلوکار کی موت کو حادثاتی ظاہر کرنے کی کوشش کی اور یہ واقعہ غیر ملکی مقام پر اس لیے پیش آیا تاکہ جرم کو چھپایا جا سکے۔
گوسوامی کا کہنا ہے کہ شرما واقعے سے قبل مشکوک رویہ اختیار کیے ہوئے تھا اور اس نے کشتی کے عملے سے زبردستی کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ جب زوبین کو پانی میں سانس لینے میں دشواری ہوئی تو شرما نے مدد کرنے کے بجائے دوسروں کو روک دیا۔ گوسوامی کے مطابق، زوبین ایک ماہر تیراک تھے، اس لیے ان کی موت صرف ڈوبنے سے ممکن نہیں۔
گلوکار کی اہلیہ گارما سائیکیا گارگ نے بھی کہا کہ انہیں سازش کا شک ہے، کیونکہ زوبین کو دل کا کوئی عارضہ نہیں تھا اور انہیں پانی کے قریب جانے سے منع کیا گیا تھا۔
دوسری جانب زوبین کے منینیجر شرما اور مہنتا نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس نے ابتدائی شواہد کو قابلِ اعتبار قرار دیا ہے، جبکہ آسام کے وزیراعلیٰ ہمنت بسوا شرما نے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کیس کی مکمل تحقیقات کی جا سکے۔
یاد ریے کہ زوبین گارگ 19 ستمبر کو سنگاپور میں یٹ آؤٹنگ کے دوران ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔