وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مصری ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو، غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال بالخصوص غزہ میں سنگین حالات پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس موقع پر جاری سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی، جن میں نیویارک میں عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان ہونے والے مشاورتی اجلاس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: الحمدللہ ! غزہ میں جنگ بندی کے قریب ہیں، وزیراعظم شہباز شریف
بیان کے مطابق ان کوششوں کا مقصد فوری اور پائیدار جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور غزہ میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ان کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان حالیہ مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتا ہے، خصوصاً حماس کے مجوزہ امن منصوبے کے جواب کو، جس سے خونریزی کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے مصری ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جسے انہوں نے خوشدلی سے قبول کر لیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کے لیے رابطے اور اشتراکِ عمل جاری رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار غزہ فلسطین مصر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار فلسطین اسحاق ڈار
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔