پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور نہ ہی ایسی کوئی بات ہے، ایاز صادق
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کیا، نہ ایسی کوئی بات ہے، پاکستان اور آٹھ ممالک نے اسرائیل کے غزہ سے نکلنے کی بات کی ہے، فلسطین کے مسئلے پر سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے۔
لاہور میں تقریب سے خطاب میں ایاز صادق نے کہا کہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی رہائی کے لیے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی کےلیے کچھ یورپی مالک سےرابطہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر سیاست اہل فلسطین کی خدمت نہیں ہے، وہاں قتل عام ہورہا ہے، پاکستان اور دیگر 8 ممالک نے اسرائیل کے غزہ سے نکلنے کی بات کی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا اور اسی طرح پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور ہوگا۔
اُن کا کہنا تھا کہ حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری ملنا اللّٰہ کی کرم نوازی ہے، دوسرے ممالک بھی پاکستان کےساتھ سعودی عرب جیسا معاہدہ چاہتے ہیں، دنیا کا ہر ملک پاکستان کو عزت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ امریکا بھی کہتا ہے کہ ہم آپ کی بات سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ سے بچ گئے ہیں اب ترقی کی طرف گامزن ہیں، سی پیک ہوا تو سازش ہوئی، سی پیک ٹو ہورہا ہے تو سازش ہورہی ہے، حکومت اور سیکیورٹی فورسز مل کر سازش کرنے والوں کا محاسبہ کریں گے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آزاد کشمیر میں قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، قومی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ کہ انہوں نے فنڈز کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی، شہر کی ٹوٹی سڑکوں کو پختہ کرائیں گے، شہر شہر، گاؤں گاؤں میں سیوریج کا جال بچھایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے اسرائیل نے کہا کہ پر حملہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔