وفاقی حکومت کا نیا پنشن نظام نافذ، نئے ملازمین کے لیے شراکتی اسکیم کا اطلاق
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم باقاعدہ طور پر نافذ کر دی ہے، جس کے تحت یکم جولائی 2024 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین اس نئے نظام کے تحت آئیں گے۔
یہ اصلاحات پاکستان کے پنشن سسٹم میں ایک بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہیں۔
نئی اسکیم کی تفصیلاتوزارتِ خزانہ کے ریگولیشن ڈپارٹمنٹ نے فیڈرل گورنمنٹ ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن (FGDC) پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024 جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب حکومت کا اہم فیصلہ، فیملی پنشن بحال
اس نئے نظام کے تحت وفاقی ملازمین اپنی تنخواہ کا 10 فیصد پنشن فنڈ میں جمع کرائیں گے، جبکہ حکومت ان کے لیے 12 فیصد اضافی حصہ دے گی — یوں مجموعی شراکت 22 فیصد ہو گی۔
یہ اسکیم پرانے پنشن ماڈل کی جگہ لے گی اور اسے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت نافذ کیا گیا ہے۔ نظام کو والنٹری پنشن سسٹم رولز 2005 اور نان بینکنگ فنانس کمپنیز ریگولیشن 2008 کے تحت ریگولیٹ کیا جائے گا۔
اطلاق اور دائرہ کاراس اسکیم کا اطلاق یکم جولائی 2024 سے سول سرکاری ملازمین اور سول ڈیفنس اہلکاروں پر ہوگا، جبکہ مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے اس کا نفاذ یکم جولائی 2025 سے متوقع ہے، تاہم اس پر عملدرآمد ابھی باقی ہے۔ موجودہ سرکاری ملازمین اس اسکیم سے متاثر نہیں ہوں گے اور ان کے لیے پرانا پنشن نظام برقرار رہے گا۔
حکومت نے اس نئے نظام کے لیے مالی سال 2024-25 میں 10 ارب روپے اور 2025-26 کے لیے 4.
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ: طلاق یافتہ بیٹی کی پنشن پر اہم فیصلہ آگیا
یہ اصلاحات آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی سفارشات پر کی گئی ہیں تاکہ تیزی سے بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات کو قابو میں لایا جا سکے، جو 2024-25 میں 1.05 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔
نظام کی نگرانی اور تحفظاتپنشن فنڈز کی انتظامیہ مجاز فنڈ منیجرز کے سپرد ہوگی، جبکہ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (AGPR) جمع پونجی، ریکارڈ کیپنگ اور منتقلی کا ذمہ دار ہوگا۔
ملازمین ریٹائرمنٹ سے قبل رقم نہیں نکال سکیں گے، تاہم ریٹائرمنٹ پر زیادہ سے زیادہ 25 فیصد رقم نکالنے کی اجازت ہوگی۔ باقی رقم 20 سال یا 80 سال کی عمر تک سرمایہ کاری کے طور پر رکھی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ الیکٹرانک ٹرانسفر سسٹم اور انشورنس کوریج کو یقینی بنائے گی، تاکہ ملازمین کی موت یا معذوری کی صورت میں تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنشن پنشن فنڈ کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم ملازمین ریٹائرمنٹ وفاقی حکومت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم ملازمین ریٹائرمنٹ وفاقی حکومت کے لیے کے تحت
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔