Islam Times:
2026-07-24@10:54:33 GMT

آج شام میں انتخابات ہو رہے ہیں لیکن عوام کے بغیر

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

آج شام میں انتخابات ہو رہے ہیں لیکن عوام کے بغیر

ان انتخابات پر تنقید کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی ممبران کے انتخاب کیلئے ایک بڑے حصے پر براہ راست عوامی ووٹنگ کا نظام موجود نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ دسمبر 2024ء میں بشار الاسد کی حکومت کے گرنے کے بعد، آج اتوار 5 اکتوبر 2025ء کو شام میں پہلے پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ اگرچہ یہ واقعہ ظاہری طور پر ایک نئی اور جمہوری نظام کی طرف منتقلی کی علامت ہونا چاہئے، لیکن اس کے انعقاد اور ساخت کا بغور جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ انتخابات عوامی منشاء کا مظہر ہونے کی بجائے، ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں عبوری حکومت کی طاقت کو مستحکم کرنے کا ایک عارضی کنٹرول میکانزم ہیں، جس میں جمہوری عمل کی کلیدی خصوصیات موجود نہیں۔

1.

غیر جمہوری ڈھانچہ: انتخاب کی بجائے تقرری
ان انتخابات پر تنقید کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی ممبران کے انتخاب کے لئے ایک بڑے حصے پر براہ راست عوامی ووٹنگ کا نظام موجود نہیں۔ یہ انتخابات ایک عارضی آئین کے تحت اور ایک غیر براہ راست نظام کے ذریعے ہو رہے ہیں، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ 3 سال کے لئے ایک عبوری پارلیمان قائم کرنا ہے، تا کہ مستقل آئین تیار کیا جا سکے اور ملک گیر انتخابات ہو سکیں۔

نشستوں کی تعداد اور انتخاب کا طریقہ:
کل نشستیں:
شامی پیپلز کونسل میں 210 نشستیں ہیں۔ البتہ بعض دیگر ذرائع کل نشستوں کی تعداد 150 بتاتے ہیں، لیکن 210 نشستیں اور ان کی تقسیم زیادہ مشہور ہے۔
ٹیکنو کریٹس (تقریباً دو تہائی):
140 کے قریب نشستیں ایک الیکٹورل کالج سسٹم کے ذریعے بھری جائیں گی۔ اس سسٹم میں، پارلیمنٹ کے ارکان کو 50 انتخابی حلقوں میں ماہرین اور معاشرتی شخصیات پر مشتمل مقامی کمیٹیاں منتخب کریں گی۔ مثال کے طور پر، حلب میں 14 نشستوں کے لئے 700 ارکان اور دمشق میں 10 نشستوں کے لیے 500 ارکان ووٹ ڈالیں گے۔ دوسرے لفظوں میں، حتمی ووٹر تقریباً چھ ہزار ارکان پر مشتمل یہ الیکٹورل اسمبلیاں ہوں گی، نہ کہ عام عوام۔
مخصوص نشستیں (تقریباً ایک تہائی):
باقی 70 نشستیں براہ راست عبوری حکومت کے سربراہ، احمد الشرع مقرر کریں گے۔ تقرری کی یہ مقدار اسمبلی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ قانون سازی کی ایک بڑی طاقت براہ راست ایگزیکٹو حکومت کے کنٹرول میں ہے۔

2. آزادانہ سیاسی مقابلے اور جماعتوں کا فقدان
اس انتخاب کے جمہوری ہونے میں ایک اور بڑی رکاوٹ آزاد سیاسی جماعتوں کے ڈھانچے اور مقابلے کے ماحول کا نہ ہونا ہے۔  نئی جماعتوں کے لئے نظام کا فقدان: گزشتہ جماعتوں کو ختم کرنے کے بعد، نئی پارٹیوں کے رجسٹر ہونے اور سرگرمیاں چلانے کے لئے اب تک کوئی نظام قائم نہیں کیا گیا۔
انفرادی مقابلہ: نتیجتاً، تمام امیدوار آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مربوط سیاسی گروہوں کے بننے اور مختلف سوچ کی نمائندگی مشکل ہو گئی ہے۔
امیدواروں کی نااہلی: اطلاعات ہیں کہ جن امیدواروں نے پچھلی حکومت کی حمایت کی تھی۔ انہیں خود ساختہ الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دے دیا ہے۔

3. سیکورٹی چیلنجز کی وجہ سے کچھ علاقوں میں انتخابات کا ملتوی ہونا
شامی سپریم الیکشن کمیٹی نے اعلان کیا کہ حفاظتی مسائل کی وجہ سے شمال مشرق علاقے الحسکہ اور رقہ جب کہ جنوب میں سویداء کے تین شہروں میں انتخابات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ اس تاخیر سے عبوری حکومت کی پورے شام میں جامع اور مکمل انتخابات کرانے کی صلاحیت پر سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس عمل میں ملکی آبادی کا تقریباً آدھا حصہ کسی بھی طرح کی سیاسی شرکت سے محروم ہو گیا ہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: براہ راست کی وجہ سے رہے ہیں کے لئے

پڑھیں:

کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک

علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔

محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔

محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت