انتخابی قوانین میں اہم ترمیم کی سفارش: الیکشن کمشن نے انٹرا پارٹی انتخابات میں نگرانی کا اختیار مانگ لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اسلام آباد (نیٹ نیوز) الیکشن کمشن آف پاکستان (ای سی پی) نے انتخابی قوانین میں اہم ترامیم کی سفارش کرتے ہوئے جماعتوں کے انٹراپارٹی انتخابات میں نگرانی کا اختیار مانگ لیا۔ الیکشن کمشن نے سفارشات کا مسودہ وزارت قانون کو بھجوا دیا جس میں کہا گیا ہے سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات کی نگرانی ناگزیر ہے۔ذرائع الیکشن کمشن کے مطابق مجوزہ ترامیم کا مقصد سیاسی جماعتوں کے اندراج ، انتخابی نشانات اور خواتین نمائندگی کے مسائل حل کرنا ہے جبکہ ترامیم سے انتخابی عمل زیادہ شفاف اور منظم ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری ڈھانچہ مضبوط اور خواتین کی شمولیت یقینی بنے گی، سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات کی شفافیت جانچنے کے لیے قانون میں کوئی شق موجود نہیں۔الیکشن کمشن کی جانب سے الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 208 میں ترمیم کی سفارش کرتے ہوئے کہا گیا ملک میں درجنوں جماعتیں ہیں مگر اندرونی جمہوری ڈھانچہ کمزور ہے۔ذرائع کے مطابق الیکشن کمشن افسران پر مشتمل ٹیم سیاسی جماعتوں کے انتخابات کا مشاہدہ کرے گی، کمیشن نے سالانہ رپورٹ کے ساتھ مشاہداتی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تجویز دی۔ تجاویز منظور ہونے سے عوامی اعتماد اور جماعتی شفافیت میں اضافہ ہوگا، سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان سفارشات پر سخت ردعمل کا امکان ہے، مختلف جماعتیں پہلے ہی انٹرا پارٹی انتخابات پر تحفظات ظاہر کر چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سیاسی جماعتوں کے الیکشن کمشن
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔