غزہ جنگ بندی، 90 فیصد معاملات طے ہو چکے ہیں، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہاہے کہ غزہ میں ابھی جنگ کا اختتام نہیں ہوا، مزید کام کی ضرورت ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے پر بات چیت جاری ہے، امید ہے معاہدے کی تفصیلات جلد طے پاجائیں گی، حماس نے جنگ کے بعد کے اقدامات پر اصولی اتفاق کر لیا ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اسلحے کی واپسی اور حماس کی تحلیل کا مرحلہ مشکل ہوگا، غزہ میں ایسی حکومت نہیں بنائی جا سکتی جو 3 دن میں بن جائے، جلد معلوم ہو جائے گا کہ حماس واقعی سنجیدہ ہے یا نہیں۔
مارکو روبیو نے کہا ہم اس وقت یرغمالیوں کی رہائی کے سب سے قریب ہیں، یہ معاملہ ہفتوں یا دنوں تک نہیں چل سکتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 90 فیصد معاملات طے ہو چکے ہیں، اُمید ہے معاہدہ اسی ہفتے کے آغاز میں مکمل ہو جائے گا، غزہ معاہدے پر 100 فیصد یقین دہانی کوئی نہیں دے سکتا۔
مارکو روبیو نے یہ بھی کہاکہ جب تک فضائی حملے جاری رہیں گے، یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاسکتا، اس لیے بمباری کا سلسلہ روکنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مارکو روبیو نے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔