مجموعی طور پر حماس جنگبندی کے بعد کے منصوبوں سے متفق ہے، امریکہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں ماركو روبیو كا كہنا تھا کہ جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ حماس اس معاملے میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی وزیر خارجہ "ماركو روبیو" نے اسرائیل اور حماس کے درمیان ہونے والی بات چیت کے انعقاد پر اس امید کا اظہار کیا کہ تکنیکی مسائل جلد حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ابھی بہت کام باقی ہے اور غزہ کی پٹی میں تین دن کے اندر حماس کے بغیر کوئی حکومت بنانا ناممکن ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ حماس، غزہ میں سیز فائر کے بعد کے منصوبے سے عمومی طور پر متفق ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ حماس اس معاملے میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر امید ظاہر کی کہ اسرائیلی قیدی جلد از جلد رہا ہو جائیں گے۔ واضح رہے کہ حماس نے حال ہی میں ٹرامپ امن منصوبے کے نام سے معروف معاہدے کے 20 نکات سے مشروط طور پر اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ تاہم بنیادی مسائل پر بات چیت امریکی و اسرائیلی فریقین کے ساتھ ملاقاتوں پر موقوف ہے۔ اسی کے ساتھ آج اتوار سے قاہرہ میں واشنگٹن، تل ابیب اور حماس کے نمائندوں کے درمیان بات چیت کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ امریکہ کی نمائندگی ڈونلڈ ٹرامپ کے نمائندہ برائے امور مشرق وسطیٰ "اسٹیو ویٹکاف" اور امریكی صدر كے یہودی داماد "جیرڈ کشنر" کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ حماس
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔