افغانستان دہشتگردی کا سرپرست، ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغانستان دہشتگردی کی سرپرستی کررہا ہے اور اس کے پیچھے بھارت بھی ہے۔ ہم ایسے عناصر کا زمین کے آخری کونے تک پیچھا کریں گے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے بات چیت میں خواجہ آصف نے بتایا کہ چند روز قبل ہوئے حملے میں افغان شہری ملوث تھے اور حالیہ اسلام آباد دھماکے میں بھی افغان شہری ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد دھماکا: دارالحکومت کو دہشتگردوں سے محفوظ بنانے کے لیے ’سیکیور نیبر ہڈ‘ سروے کرانے کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بارہا افغانستان کو آگاہ کیا مگر کابل ذمہ داری قبول نہیں کرتا، یہ واقعہ پوری دنیا کے سامنے ثبوت ہے کہ افغانستان دہشتگردوں کی حمایت کررہا ہے اور بھارت بھی افغانستان کی پشت پناہی کررہا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہاکہ ہم نے جنگ جیتی ہے اور دہشتگردی کے خلاف بھی فتح حاصل کریں گے، اور دہشتگردی کے پیچھے کارفرما عناصر کا زمین کے آخری کونے میں پیچھا کریں گے۔
واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان سے بار ہا یہ مطالبہ کیا جا چکا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، لیکن افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہیں کی جارہی۔
حال ہی میں استنبول میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں بھی کسی نکتے پر اتفاق نہیں ہو سکا، افغانستان تحریری طور پر کوئی بھی معاہدہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مزید پڑھیں: کیڈٹ کالج وانا پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، شواہد مل گئے
گزشتہ ماہ افغانستان نے پاکسانی سرحد کی خلاف ورزی کی تھی، جس کا پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا۔ اس کے بعد ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ہوئے، تاہم کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت پاکستان افغانستان تعلقات خواجہ آصف دہشتگردی وارننگ وزیر دفاع وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان افغانستان تعلقات خواجہ ا صف دہشتگردی وارننگ وزیر دفاع وی نیوز کریں گے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔