ٹرمپ کی حماس کواقتدار نہ چھوڑنے پر صفحہ ہستی سے مٹانے کی پھر دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک بار پھر حماس کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے اقتدار نہ چھوڑا تو اسے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے گا۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا ہے کہ اگر حماس نے اقتدار چھوڑنے اور غزہ کا کنٹرول دینے سے انکار کیا، تو اسے ’ مکمل تباہی’ کا سامنا کرنا پڑے اور ’ صفحہ ہستی’ سے مٹادیا جائے گا۔
امریکی صدر کا یہ بیان ان کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے جو ان کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
جب سی این این کے اینکر جیک ٹیپر نے ٹرمپ سے ٹیکسٹ پیغام کے ذریعے پوچھا کہ اگر حماس اقتدار میں رہنے پر اصرار کرتی ہے تو کیا ہوگا، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’ مکمل تباہی!’
جیک ٹیپر نے صدر سے سوال کیا کہ سینیٹر لنزے گراہم کے مطابق حماس نے ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے کو مؤثر طور پر مسترد کر دیا ہے، کیونکہ وہ غیر مسلح ہونے سے انکار کر رہی ہے، غزہ کو فلسطینی کنٹرول میں رکھنے پر اصرار کر رہی ہے، اور یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات سے مشروط کر رہی ہے، تو کیا گراہم غلط ہیں؟
اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ’ ہم دیکھیں گے۔ وقت ہی بتائے گا!!!’
صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں جلد ہی اس بات پر وضاحت کی امید ہے کہ آیا حماس واقعی امن کے لیے پرعزم ہے یا نہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو غزہ میں بمباری ختم کرنے اور صدر کے وسیع تر وژن کی حمایت پر متفق ہیں، تو ٹرمپ نے کہا کہ’ ہاں، بی بی ( نیتن یاہو) اس پر متفق ہیں۔’
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ ان کا جنگ بندی منصوبہ جلد حقیقت بنے گا، اور اس کے حصول کے لیے وہ ’ سخت محنت کر رہے ہیں۔’
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔