غزہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی‘قیدیوں کی رہائی ترجیح ہے‘ امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251006-08-28
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے سیکرٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے تاہم اولین ترجیح حماس کے پاس موجود قیدیوں کی رہائی ہے جبکہ اس کے بعد کی صورت حال پر ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ حماس نے بنیادی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز اور قیدیوں کی رہائی کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ملاقاتیں جاری ہیں۔مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا کو قیدیوں کی رہائی کا عمل واضح کرنے کے لیے ہونے والے موجودہ مذاکرات کے دوران جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ آیا حماس سنجیدہ ہے یا نہیں ہے۔امریکی سیکرٹری اسٹیٹ نے کہا کہ اولین ترجیح جو متوقع طور پر ہم بہت جلد حاصل کرسکتے ہیں وہ اسرائیل کے انخلا کے بدلے قیدیوں کی رہائی سے ممکن ہے جہاں اسرائیل اگست کے دوران غزہ کے اندر موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں غزہ کا طویل مدتی مستقبل ہے جو اس سے مشکل ہے‘ اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے سے کیا ہوگا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے بعد کیا ہوگا یہ دیکھنا ہوگا، فلسطینی ٹیکنوکریٹک قیادت کیسے تیار کی جائے، جس میں حماس نہ ہو، اسی طرح کسی گروپ کو کیسے غیرمسلح کیا جائے جو اسرائیل کے خلاف حملے کرتا ہے اور سرنگیں تعمیر کرتا ہے اور ان کو کیسے غیرفعال کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا عمل بہت مشکل ہوگا لیکن یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر وہاں پائیدار امن نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قیدیوں کی رہائی نے کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں