پاکستان میں رواں سال کا پہلا سپر مون کا نظارہ کب دیکھا جائے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پاکستان میں سال 2025 کا پہلا سپر مون کا نظارہ 7 اکتوبر کو دیکھا جاسکے گا۔
سپارکو کے مطابق 7 اکتوبر 2025 کی رات آسمان پر سال 2025 کے تین سُپر مُونز میں سے پہلا سُپر مُون نظر آئے گا۔
اکتوبر کا یہ سُپر مُون شام 8:47 بجے (پاکستان معیاری وقت) پر ظاہر ہوگا۔ سورج غروب ہونے کے فوراً بعد چاند مشرق سے طلوع ہوگا اور طلوعِ آفتاب سے کچھ پہلے مغرب میں غروب ہوجائے گا۔
اس سال 7 اکتوبر کا سُپر مُون زمین سے 224,599 میل کے فاصلے پر ہوگا، یعنی یہ ایک عام مکمل چاند کے مقابلے میں 6.
سال کا سب سے روشن سُپر مُون نومبر میں متوقع ہے، جب چاند زمین سے صرف 221,817 میل کے فاصلے پر ہوگا۔
یہ قدرتی مظہر نہ صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں دیکھا جا سکے گا اور رات کے آسمان پر ایک دلکش منظر پیش کرے گا۔
اس کے بعد مزید دو سُپر مُونز 5 نومبر اور 5 دسمبر کو آسمان پر جلوہ گر ہوں گے۔ اکتوبر 2025 کا سُپر مُون سیارہ زحل (Saturn) کے قریب دکھائی دے گا، جو 6 اور 7 اکتوبر کی شاموں میں چاند کے بائیں (مغربی) جانب نظر آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔