City 42:
2026-07-24@05:42:11 GMT

رواں سال کا پہلا سپر مون سات اکتوبر کو نظر آئے گا

اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT

طیب سیف: رواں سال کا پہلا سپر مون سات اکتوبر کو نظر آئے گا,پاکستان میں یہ سپر مون 8 بج کر 47 منٹ پر نظر آئے گا۔

تفصیلات کےمطابق 7 اکتوبر 2025 کی رات آسمان پر سال 2025 کے تین سُپر مُونز میں سے پہلا سُپر مُون نظر آئے گا، اکتوبر کا یہ سُپر مُون شام 8:47 بجے (پاکستان معیاری وقت) پر ظاہر ہوگا۔

یہ نظارہ سورج غروب ہونے کے فوراً بعد مشرق سے طلوع ہوگا اور طلوعِ آفتاب سے کچھ پہلے مغرب میں غروب ہوجائے گا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات 16 اکتوبر کو منعقد ہوں گے

اس سال 7 اکتوبر کا سُپر مُون ایک عام مکمل چاند کے مقابلے میں 6.

6 فیصد بڑا اور 13 فیصد زیادہ روشن نظر آئے گا۔

سال کا سب سے روشن سُپر مُون نومبر میں متوقع ہے، جب چاند زمین سے صرف 221,817 میل کے فاصلے پر ہوگا۔

اس کے بعد مزید دو سُپر مُونز 5 نومبر اور 5 دسمبر کو آسمان پر جلوہ گر ہوں گے۔

اکتوبر 2025 کا سُپر مُون سیارہ زحل (Saturn) کے قریب دکھائی دے گا، جو 6 اور 7 اکتوبر کی شاموں میں چاند کے بائیں (مغربی) جانب نظر آئے گا۔

 شاہدرہ : شوہر کا بیوی پر چھریوں سے حملہ، گلا کاٹنے کی کوشش

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: نظر آئے گا

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل