غزہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، قیدیوں کی رہائی ترجیح ہے، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکا کے سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے تاہم اولین ترجیح حماس کے پاس موجود قیدیوں کی رہائی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مارکو روبیو نے کہا کہ غزہ میں جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور اولین ترجیح حماس کے پاس موجود قیدیوں کی رہائی ہے جبکہ اس کے بعد کیا پیدا ہونے والی صورت حال پر ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس نے بنیادی طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز اور قیدیوں کی رہائی کے فریم ورک پر اتفاق کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ملاقاتیں جاری ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا کہ انہوں نے اصولی اور عمومی طور پر اس کے بعد کیا ہوگا اس حوالے سے تجویز میں شامل ہونے کے لیے اتفاق کیا اور اس سے متعلق تمام تر تفصیلات پر کام کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو قیدیوں کی رہائی کا عمل واضح کرنے کے لیے ہونے والے موجودہ مذاکرات کے دوران جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ آیا حماس سنجیدہ ہے یا نہیں ہے۔
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ نے کہا کہ اولین ترجیح جو متوقع طور پر ہم بہت جلد حاصل کرسکتے ہیں وہ اسرائیل کے انخلا کے بدلے قیدیوں کی رہائی سے ممکن ہے جہاں اسرائیل اگست کے دوران غزہ کے اندر موجود تھا۔
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں غزہ کا طویل مدتی مستقبل ہے جو اس سے مشکل ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے سےکیا ہوگا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے بعد کیا ہوگا یہ دیکھنا ہوگا، فلسطینی ٹیکنوکریٹک قیادت کیسے تیار کی جائے، جس میں حماس نہ ہو، اسی طرح کسی گروپ کو کیسے غیرمسلح کیا جائے جو اسرائیل کے خلاف حملے کرتا ہے اور سرنگیں تعمیر کرتا ہے اور ان کو کیسے غیرفعال کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پورا عمل بہت مشکل ہوگا لیکن یہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کے بغیر وہاں پائیدار امن نہیں ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکو روبیو نے کہا قیدیوں کی رہائی نے کہا کہ ہے اور
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔