پاکستان لبریکینٹ یونین کے مطالبات منظور
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکر یونین (PCEM) سے منسلک مزدور دوست پاکستان لبریکینٹ یونین کی ڈائریکٹر لیبر کے ساتھ کامیاب میٹنگ گزشتہ دنوں منعقد ہوئی۔
PCEMکی جانب سے فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری عمران علی، ڈپٹی جنرل سیکرٹری غلام مرتضیٰ تنولی اور انفارمیشن سیکرٹری رحیم خان آفریدی نے اس میٹنگز میں نمایاں کردار ادا کیا اور مزدور دوست یونین پاکستان لبریکینٹ کے جنرل سیکرٹری نوید احمد اور صدر مصائد اور جوائنٹ سیکرٹری محمد یوسف نے بھی اس میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس میٹنگ میں وہ تمام ڈیمانڈز جنہیں پہلے منظور کیا جا چکا تھا لیکن کچھ چیزیں ان میں زیر التوا اور مسائل کا شکار تھی جوائنٹ ڈائریکٹر لیبر اصغر پٹھان لالا کی ہدایت پر کمپنی نے تسلیم کر لیں اور دونوں فریقین کے جانب سے گواشوارے پر دستخط کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔