سعودی عرب میں 46 کروڑ سال پرانا قدرتی شاہکار ’دلہن چٹان‘
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے العُلا کے قریب تیماء کے صحرا میں واقع ایک نایاب قدرتی چٹان، جسے مقامی طور پر (Bride Rock) دلہن چٹان کہا جاتا ہے، اپنی انوکھی ساخت اور دلکش قدرتی حسن کے باعث سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
رائل کمیشن برائے العُلا کے مطابق، یہ چٹان 460 ملین سال (46 کروڑ سال) پرانی ہے۔ اس کی تہیں اُس دور میں سمندری تلچھٹ سے بنی تھیں جب یہ علاقہ قدیم براعظم گونڈوانا کے کنارے واقع تھا۔ بعد ازاں ارضیاتی پلیٹوں کی نقل و حرکت نے اسے موجودہ مقام تک پہنچا دیا۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں ’امید کی شہزادی‘ کو محافظ مل گئے
یہ چٹان انسانی شکل کی مانند دکھائی دیتی ہے گویا ایک دلہن صحرائی منظر میں اپنا لباس تھامے کھڑی ہو۔
اطراف میں پھیلے پتھریلے میدانوں میں قدیم سمندری جانداروں کے فوسلز بھی پائے گئے ہیں، جو اس خطے کی طویل ارضیاتی تاریخ اور تبدیلیوں کا ثبوت ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Bride Rock دلہن چٹان سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دلہن چٹان
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔