تبت میں ماؤنٹ ایورسٹ کے مشرقی رُخ کے قریب شدید برفانی طوفان کے باعث سیکڑوں کوہ پیما پھنس گئے، جنہیں کئی گھنٹوں کی مشقت کے بعد ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق غیر معمولی برفباری اور بارشوں نے ہمالیائی سلسلے میں تباہی مچادی تھی، جس کے باعث درجنوں ٹیمیں پھنس گئیں۔

چینی نشریاتی ادارے ”سی سی ٹی وی“ کے مطابق اتوار تک ریسکیو ہونے والے 350 کوہ پیما چھوٹے سے قصبے چوڈانگ (Qudang) تک پہنچ چکے تھے جبکہ باقی دو سو سے زائد کوہ پیماؤں سے بھی رابطہ قائم کر لیا گیا ہے۔

ان تمام سیاحوں نے چین کے آٹھ روزہ قومی تعطیلاتی ہفتے کے دوران مہم جوئی کے لیے کرما ویلی کا رخ کیا تھا، جو ماؤنٹ ایورسٹ کے مشرقی رخ کنگ شونگ گلیشیئر تک جاتی ہے۔

ایک چینی کوہ پیما چن گیشوانگ نے بتایا کہ ’پہاڑوں میں اتنی سردی اور نمی تھی کہ ہائپوتھرمیا (شدید سردی سے بے ہوشی یا موت) کا حقیقی خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ موسم اس بار بالکل غیر معمولی تھا، ہمارے گائیڈ نے کہا کہ اس نے اکتوبر میں ایسا موسم پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ سب کچھ اچانک ہوگیا۔‘

چن اور ان کی 18 رکنی ٹیم اتوار کو پہاڑوں سے اترنے میں کامیاب ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ’برفباری، گرج چمک اور یخ بستہ ہوا میں ایک خوفناک رات گزارنے کے بعد جب وہ گاؤں پہنچے تو مقامی لوگوں نے ان کا استقبال کیا، انہیں گرم میٹھی چائے پلائی اور حرارت کا انتظام کیا۔ گاؤں واپس پہنچ کر ہمیں کھانا ملا اور بالآخر ہم گرم ہو سکے۔‘

جِمو نیوز کے مطابق مقامی دیہاتیوں اور امدادی ٹیموں نے راستوں سے برف ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس علاقے میں تقریباً ایک ہزار افراد پھنس گئے تھے۔ سی سی ٹی وی کے مطابق باقی ماندہ کوہ پیماؤں کو بھی مرحلہ وار چوڈانگ لایا جا رہا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ مقامی گائیڈز اور عملہ، جو مہمات کے ساتھ تھا، ان میں شامل ہیں یا نہیں۔

وادی کرما کی اوسط بلندی 4200 میٹر (تقریباً 13800 فٹ) ہے۔ برفباری جمعہ کی شام شروع ہوئی تھی اور ہفتے بھر جاری رہی۔

ایک اور کوہ پیما ایرک وین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم بارش اور برفباری میں پھنسے رہے، ہمیں ایورسٹ کا نظارہ تک نہیں ملا۔‘ ان کی 18 رکنی ٹیم نے ہفتے کی رات فیصلہ کیا کہ وہ واپس لوٹیں گے کیونکہ برفباری رکنے کا کوئی امکان نہ تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہمارے پاس چند ہی خیمے تھے، دس سے زیادہ لوگ ایک بڑے خیمے میں ٹھنسے ہوئے تھے، ہم بمشکل سو سکے۔ ہر دس منٹ بعد خیمے سے برف ہٹانی پڑتی تھی، ورنہ وہ گر جاتا۔‘

وین کے مطابق دو مرد اور ایک خاتون ہائپوتھرمیا کا شکار ہوئے، حالانکہ وہ موزوں لباس میں تھے۔ تاہم ان کی پوری ٹیم بشمول آٹھ گائیڈز اور یاکس (پہاڑی بیلوں) کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنان محفوظ رہے۔

کرما ویلی، جسے مغربی مہم جوؤں نے ایک صدی قبل دریافت کیا تھا، ماؤنٹ ایورسٹ کے قدرتی حسن سے مالا مال حصوں میں سے ایک ہے۔ شمالی رخ کے برعکس، یہاں سبزہ، جنگلات اور گلیشیئر کے پگھلے پانی سے بہنے والی ندیاں پائی جاتی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ شمالی رخ کے قریب موجود کوہ پیما بھی متاثر ہوئے یا نہیں۔

سیاحوں کی بڑی تعداد کے باعث شمالی ایورسٹ بیس کیمپ تک جانے والی سڑک بند کر دی گئی ہے، جبکہ ہفتے کی رات سے ایورسٹ کے تمام سیاحتی علاقوں کے ٹکٹوں کی فروخت معطل کر دی گئی ہے۔

ادھر جنوبی خطے نیپال میں بھی شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچائی ہے، جس میں کم از کم 47 افراد ہلاک ہو گئے۔ مشرقی ضلع ایلام میں الگ الگ مقامات پر زمین کھسکنے سے 35 افراد جاں بحق ہوئے، 9 افراد سیلابی ریلوں میں بہہ گئے جبکہ 3 افراد بجلی گرنے سے مارے گئے۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم موسلا دھار بارشوں کے باعث راستے اور پل بہہ جانے سے مشکلات درپیش ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ماؤنٹ ایورسٹ ایورسٹ کے کے مطابق کوہ پیما بتایا کہ کے باعث

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا

لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا