پنجاب یونیورسٹی، گارڈز پر تشدد کا واقعہ 10 پشتون طلبہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق پشتون طلبا بغیر اجازت ہاسٹل سائیڈ پر میوزک پروگرام کرنا چاہتے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی گارڈز نے ساؤنڈ سسٹم ہاسٹل لے جانے سے پشتون طلبہ اور غیرمتعلقہ افراد کو روکا، پشتون کونسل چند روز قبل میوزک پروگرام یونیورسٹی اجازت سے کر چکی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں پنجاب یونیورسٹی کے گارڈز پر حملے کے واقعہ میں پولیس نے 10 پشتون طلباء کو گرفتار کر لیا، باقی طلبہ کی تلاش جاری ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پر مسلم ٹاون پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ گزشتہ روز 19 طلباء اور نامعلوم افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ پشتون کونسل کے حملے سے یونیورسٹی کا سکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا۔ پشتون طلبا بغیر اجازت ہاسٹل سائیڈ پر میوزک پروگرام کرنا چاہتے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق سکیورٹی گارڈز نے ساؤنڈ سسٹم ہاسٹل لے جانے سے پشتون طلبہ اور غیرمتعلقہ افراد کو روکا، پشتون کونسل چند روز قبل میوزک پروگرام یونیورسٹی اجازت سے کر چکی تھی۔
انتظامیہ کے مطابق اب دوبارہ پشتون کونسل نے اجازت لئے بغیر میوزک پروگرام کرنے کی کوشش کی۔ انتظامیہ کے مطابق ایس او پیز کے مطابق پشتون طلباء اجازت لیکروقتاً فوقتاً میوزک پروگرام کرتے رہتے ہیں۔ کسی بھی طالبعلم تنظیم کو بغیراجازت غیرمتعلقہ افراد کیساتھ مل کر کوئی پروگرام کرنے نہیں دینگے۔ انتظامیہ کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی گارڈز پر حملے میں ملوث افراد کیخلاف ایکشن لیں گے، بیشتر پشتون طلباء نے بلااجازت پروگرام پر کونسل عہدیداروں، غیر متعلقہ افراد کی مذمت بھی کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونیورسٹی انتظامیہ انتظامیہ کے مطابق میوزک پروگرام پشتون کونسل افراد کی
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔