آنتوں کے مرض میں مبتلا خاتون کا اہل خانہ کے ہمراہ اسپتال انتظامیہ کیخلاف مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) لطیف آباد نمبر 12 کی رہائشی اور آنتوں کا آپریشن کرانے والی مریضہ مسرت زوجہ شاہد خان نے اپنے شوہر اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ سول اسپتال سرجیکل وارڈ نمبر4کے عملے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اس نے الزام عائد کیا کہ وہ آنتوں کی تکلیف کے باعث گزشتہ جمعرات کی شب سول اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچی، جہاں سے اسے میڈیکل وارڈ 4 میں داخل کرایا گیا، آپریشن کے بعد جب وارڈ میں داخل ہونے کے بعد علاج نہ ہونے کی شکایت کی توخاتون ڈاکٹر اور عملے نے انتہائی بدتمیزی کی جس پر میں نے ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر اور عملے نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے وارڈ سے باہر پھینک دیا۔ اس نے کہا کہ مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے وہ بہت تکلیف میں ہیں۔ اس کا شوہر اپنا پیٹ بھرنے کے لیے رکشہ چلاتا ہے، جبکہ مکان بھی کرائے پر ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت سندھ، محکمہ صحت سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا نوٹس لیں ملوث عملے خلاف کاروائی کی جائے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔