اٹلس ہونڈا نے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے ’ایس سی آسان‘ پلان کے تحت اپنی موٹر سائیکلوں کی خریداری کے لیے آسان اقساط کی سہولت متعارف کرادی ہے۔

اس اسکیم کے تحت کریڈٹ کارڈ ہولڈرز زیرو فیصد مارک اپ کے ساتھ اپنی پسند کی ہونڈا موٹر سائیکل 3، 6 یا 12 ماہ کی اقساط میں خرید سکتے ہیں۔ بینک کی جانب سے صرف ایک مرتبہ پروسیسنگ فیس وصول کی جائے گی:

3 ماہ کے پلان پر 1.

99 فیصد
6 ماہ کے پلان پر 5.99 فیصد
12 ماہ کے پلان پر 11.99 فیصد

مزید پڑھیں: صرف 14 ہزار روپے میں ہونڈا آئیکون ای خریدنے کا سنہری موقع، مگر کیسے؟

منتخب ماڈلز کے لیے ماہانہ اقساط کی تفصیل:

ہونڈا CD 70 کی سرکاری قیمت 1 لاکھ 59 ہزار 900 روپے مقرر کی گئی ہے، جسے 13 ہزار روپے ماہانہ کی 12 اقساط میں خریدا جا سکتا ہے۔

ہونڈا CD 70 ڈریم کی قیمت 1 لاکھ 70 ہزار 900 روپے ہے، جس کی ماہانہ قسط 13 ہزار 965 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح ہونڈا پریدور کی قیمت 2 لاکھ 11 ہزار 900 روپے اور اس کی 12 ماہ کی قسط 17 ہزار 308 روپے ہے۔

ہونڈا CG 125 ماڈل 2 لاکھ 38 ہزار 500 روپے میں دستیاب ہے، جس کی ماہانہ قسط 19 ہزار 480 روپے ہوگی۔

مزید پڑھیں: ہونڈا نے سی جی 150 اور الیکٹرک بائیک لانچ کردی، قیمتیں بھی حیران کن

اس کے علاوہ ہونڈا CG 150 کی قیمت 4 لاکھ 59 ہزار 900 روپے اور اس کی قسط 37 ہزار 583 روپے رکھی گئی ہے۔

سب سے مہنگا ماڈل ہونڈا CB 150F ہے، جس کی قیمت 4 لاکھ 99 ہزار 900 روپے جبکہ 12 ماہ کی قسط 40 ہزار 833 روپے مقرر کی گئی ہے۔

کمپنی کے مطابق، یہ اسکیم خاص طور پر درمیانے طبقے کے صارفین کے لیے موٹر سائیکلوں کی خریداری کو مزید سہل بنانے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔

مزید معلومات یا آرڈر کے لیے صارفین 24/7 ہیلپ لائن 021-111-002-002 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسان اقساط ہونڈا

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ہونڈا ہزار 900 روپے کی قیمت کے لیے گئی ہے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا