پی ٹی آئی نےقومی اسمبلی میں محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ قومی اسمبلی میں محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کردیا ہے، عامر ڈوگر جلد اس حوالے سے کاغذات جمع کرادیں گے، علامہ ناصر عباس سینیٹ میں ہمارے اپوزیشن لیڈر ہوں گے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسلمان اکرم کا کہناتھا کہ کل ہماری پارلیمانی سیاست کا نیا دن طلوع ہوگا، یہ بانی پی ٹی آئی کا دانشمندانہ فیصلہ ہے، آج سے پارلیمنٹ ہاؤس کے رول 39 کا آغاز کردیا ہے، ہمارے اراکین قومی اسمبلی نے قرارداد پر دستخط کردیئے، وہ درخواست اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کرائی جائے گی، محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہوں گے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اپوزیشن لیڈر سینیٹ ہوں گے۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بھی اپوزیشن لیڈر کیلئے محمود اچکزئی کے نام کی تصدیق کرد ی ہے ، اور کہا کہ آج بانی پی ٹی آئی کی ہدایت موصول ہوئی تھیں، مشترکہ پارلیمانی پارٹی نے دونوں کو نامزد کردیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔