ٹرمپ کا نیشنل گارڈ کے 400 فوجیوں کو الینوائے اور اوریگون میں تعینات کرنیکا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پینٹاگون کی طرف سے اس معاملے کے اعلان کے بعد وفاقی جج کیرن ایمرگٹ نے ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں ٹرمپ انتظامیہ کو اگلے نوٹس تک پورٹ لینڈ، اوریگون میں کسی بھی ریاست میں نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کرنے سے منع کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی ریاست الینوائے کے ڈیموکریٹک گورنر جے بی پرٹزکر نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکساس نیشنل گارڈ کے 400 فوجیوں کو الینوائے، اوریگون اور دیگر شہروں میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں انہوں نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس فیصلے کی حمایت واپس لیں اور ٹرمپ کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کریں۔ پرٹزکر نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے پینٹاگون سے کہا ہے کہ وہ 100 وفاقی فوجی الینوائے بھیجے۔
الینوائے کے گورنر نے مزید کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے اس ماہ شکاگو میں امیگریشن پالیسیوں کا سخت نفاذ اس علاقے میں فوجی افواج کی تعیناتی کا پیش خیمہ تھا۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے شکاگو اور الینوائے کے دیگر حصوں میں ایک امیگریشن آپریشن کیا ہے، جسے "آپریشن ہاف وے لائٹننگ" کہا جاتا ہے۔ پرٹزکر نے یہ ریمارکس پینٹاگون کی طرف سے امیگریشن سے متعلق مظاہروں کیوجہ سے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لئے کیلیفورنیا اور ٹیکساس نیشنل گارڈ کے فوجیوں کو پورٹ لینڈ میں طلب کرنے کے فیصلے کے اعلان کے بعد کیا۔
لیکن پینٹاگون کی طرف سے اس معاملے کے اعلان کے بعد وفاقی جج کیرن ایمرگٹ نے ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں ٹرمپ انتظامیہ کو اگلے نوٹس تک پورٹ لینڈ، اوریگون میں کسی بھی ریاست میں نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کرنے سے منع کیا گیا۔ گزشتہ روز اسی وفاقی جج نے ڈونلڈ ٹرمپ کو عارضی طور پر پورٹ لینڈ شہر میں اوریگون نیشنل گارڈ کے 200 فوجیوں کی تعیناتی سے روک دیا تھا جبکہ ان کے قانونی مقدمے پر کارروائی کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ کیلیفورنیا کے ڈیموکریٹک گورنر گیون نیوسم نے اعلان کیا کہ وہ "طاقت کے خوفناک غلط استعمال" کے لئے ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔
امریکی صدر اپنی امیگریشن مخالف پالیسیوں اور بڑھتے ہوئے جرائم سے لڑنے کے لیے لاس اینجلس اور واشنگٹن ڈی سی میں کئی ہفتوں سے نیشنل گارڈ تعینات کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے قانونی چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک اور وفاقی عدالت نے 2 ستمبر کو ٹرمپ انتظامیہ کو کیلیفورنیا میں جرائم سے لڑنے کے لئے فوجی طاقت کے استعمال سے روک دیا تھا، لیکن حکومت کی اپیل کی وجہ سے یہ فیصلہ معطل کردیا گیا ہے۔ واشنگٹن کے ڈیموکریٹک اٹارنی جنرل نے بھی 4 ستمبر کو ٹرمپ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس میں امریکی کیپیٹل میں نیشنل گارڈ کے فوجیوں کی تعیناتی کو ختم کیا گیا تھا۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ نیشنل گارڈ کے پورٹ لینڈ کیا تھا
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز