عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی، ٹرمپ فوجی دستے پورٹ لینڈ بھی بھیج دیے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیلیفورنیا سے فوجی دستے اورِیگون کے شہر پورٹ لینڈ روانہ کر دیے ہیں، حالانکہ ایک عدالت نے انہیں نیشنل گارڈ کی تعیناتی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
ذرائع کے مطابق، صدر ٹرمپ نے یہ اقدام عدالتی حکم کو بائی پاس کرتے ہوئے کیا، اور اس کے بجائے لاس اینجلس میں پہلے سے تعینات نیشنل گارڈ کے فوجیوں کو پورٹ لینڈ بھیج دیا۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ’قانون کے حیرت انگیز غلط استعمال‘ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کریں گے۔
دوسری جانب، ایلینوئے کے گورنر جے بی پرٹزکر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ نے ٹیکساس نیشنل گارڈ کے فوجیوں کو بھی دوبارہ تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی شہروں کو ’جنگی میدان‘ قرار دے کر نیشنل گارڈ تعینات کر دیے
پینٹاگون نے تصدیق کی کہ کیلیفورنیا نیشنل گارڈ کے 200 اہلکار پورٹ لینڈ بھیجے گئے ہیں تاکہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اور دیگر وفاقی اداروں کے عملے کی مدد کر سکیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ابیگیل جیکسن نے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے قانونی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے وفاقی املاک اور اہلکاروں کی حفاظت کے لیے یہ قدم اٹھایا، جو حالیہ پرتشدد فسادات کے بعد ضروری تھا۔
انہوں نے گورنر نیوسم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں قانون پر عمل کرنے والے شہریوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، نہ کہ ان مجرموں کے ساتھ جو پورٹ لینڈ اور دیگر شہروں کو تباہ کر رہے ہیں۔
گورنر پرٹزکر نے اتوار کی رات بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ٹیکساس نیشنل گارڈ کے 400 اہلکاروں کو ایلینوئے، اوریگون اور دیگر مقامات پر بھیجنے کے احکامات دیے ہیں۔
انہوں نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوراً اس فیصلے کی حمایت واپس لیں۔
گزشتہ موسمِ گرما میں لاس اینجلس میں امیگریشن چھاپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے، جس کے بعد ٹرمپ نے ریاستی نیشنل گارڈ کو تعینات کیا۔ اس وقت بھی گورنر نیوسم نے فوج کے استعمال کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیا تھا، مگر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے نے شہر کو جلنے سے بچایا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹرمپ کی ہدایت پر واشنگٹن میں مسلح نیشنل گارڈز کی تعیناتی، شہریوں میں تشویش
اسی تعیناتی کے دوران موجود فوجیوں کو اب پورٹ لینڈ بھیجا گیا ہے۔
گورنر نیوسم نے کہا کہ یہ عوامی تحفظ کا نہیں بلکہ طاقت کے مظاہرے کا معاملہ ہے۔ صدر امریکی فوج کو سیاسی ہتھیار کے طور پر شہریوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ عدالت میں جائیں گے، مگر عوام کو بھی ایسے آمرانہ اقدامات کے خلاف خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
پورٹ لینڈ سمیت کئی شہروں میں ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔
صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اینٹی فاشسٹ (Antifa) گروپ کو ملکی دہشتگرد تنظیم قرار دیا گیا ہے۔
پورٹ لینڈ میں تعیناتی سے ایک روز قبل ٹرمپ نے شکاگو میں بھی 300 نیشنل گارڈ اہلکاروں کو تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔
شکاگو میں ہفتے کے روز احتجاج کے دوران جھڑپیں ہوئیں، جہاں امیگریشن حکام کے مطابق ایک مسلح خاتون نے پولیس گاڑیوں پر حملہ کیا، جس کے بعد حکام نے فائرنگ کی۔
ایلینوئے کے گورنر پرٹزکر نے ٹرمپ کے اقدامات کو ’طاقت کے ناجائز استعمال‘ اور ’سیاسی بحران پیدا کرنے کی کوشش‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر جان بوجھ کر تصادم پیدا کر رہے ہیں تاکہ مزید فوجی بھیجنے کا جواز پیدا ہو سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: نیشنل گارڈ کے پورٹ لینڈ بھی کرتے ہوئے کے گورنر کے خلاف کہا کہ
پڑھیں:
انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں جس کے تحت امریکی محکمۂ خزانہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہونے
والے بینک اکاؤنٹس بند کرے۔
ٹرمپ نے 2 جون کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ حکم ان بینکوں، کریڈٹ کارڈ کمپنیوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ہدف بناتا ہے جن کے ذریعے مجرم
عناصر انسانی اسمگلنگ، منشیات کی تجارت، غیر قانونی امیگریشن اور منظم جرائم پیشہ گروہوں سے وابستہ رقوم منتقل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں مصنوعی ذہانت کی نگرانی، ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن اور غیر ملکی دھوکے باز ہر سال امریکی ٹیکس دہندگان سے اربوں ڈالر لوٹ لیتے ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ایسے بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کی معاونت کے لیے استعمال ہو رہے ہوں یا جن میں غیر دستاویزی تارکینِ وطن کو دی جانے والی سرکاری امداد رکھی جا
رہی ہو، انہیں بند، ضبط یا بحقِ سرکار تحویل میں لیا جا سکتا ہے۔
President Trump announced that he has signed a new Executive Order aimed at cracking down on financial fraud and illegal immigration.
The order directs the Treasury Department to restrict banks, credit cards, and financial institutions from being used to support human smuggling,… pic.twitter.com/01rOIAWCxI
— Open Source Intel (@Osint613) June 2, 2026
صدر ٹرمپ کے مطابق وہ بینک اکاؤنٹس جو غیر قانونی امیگریشن کو سہولت فراہم کرنے یا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملنے والی فلاحی امداد محفوظ رکھنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، بند کر دیے جائیں گے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے امریکا سے باہر جانے والے اربوں ڈالر کے بہاؤ کو روکا جا سکے گا۔
محکمۂ خزانہ کی کارروائیاںوائٹ ہاؤس اور محکمۂ خزانہ کے مطابق جرائم پیشہ تنظیمیں امریکی مالیاتی نظام کو غیر قانونی رقوم منتقل کرنے اور چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ نئے حکم نامے کا مقصد بینکنگ سطح پر
ان نیٹ ورکس کی رسائی ختم کرنا ہے۔
اسی تناظر میں مارچ 2026 میں محکمۂ خزانہ نے میکسیکو کے سینالوا کارٹیل سے وابستہ ایک منی لانڈرنگ نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی تھیں۔
مزید پڑھیں: صدرٹرمپ کا ووٹرشناختی کارڈ لازمی قرار دینے کا فیصلہ، ایگزیکٹیو آرڈر جلد متوقع
حکام کا الزام تھا کہ منشیات فروش فینٹانائل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو پہلے کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے اور پھر یہ رقوم کارٹیل کے آپریٹرز تک پہنچائی جاتیں۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے مارچ 2026 میں کہا تھا کہ محکمۂ خزانہ دہشتگرد کارٹیلز اور ان کے فینٹانائل اسمگلنگ نیٹ ورکس کو نشانہ بناتا رہے گا۔
مسئلے کا حجمامریکی حکام کے مطابق مسئلہ کافی وسیع ہے۔ محکمۂ خزانہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نشاندہی کی ہے کہ چینی منی لانڈرنگ نیٹ ورکس مبینہ طور پر 312 ارب ڈالر سے زائد رقوم
امریکی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کر چکے ہیں۔
حکام نے مالیاتی نظام کو مزدوروں کی اسمگلنگ سے بھی جوڑا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ٹرانس جینڈر بچوں کی جنس تبدیلی کے علاج پر پابندی لگا دی
اپریل 2025 میں امریکی ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی آئی سی ای نے ریاست اوہائیو میں ایک مبینہ 126 ملین ڈالر مالیت کے غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنے اور منی لانڈرنگ
آپریشن سے منسلک اثاثے ضبط کیے تھے۔
آئی سی ای کے مطابق اس نیٹ ورک نے تقریباً 40 فرضی کمپنیوں کے ذریعے غیر دستاویزی کارکنوں کو ملازمت اور رہائش فراہم کی، جن میں سے بہت سے افراد میکسیکو کے راستے امریکا
اسمگل کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق اس دوران لاکھوں ڈالر بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور لگژری اشیا کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ نیٹ ورکس امیگریشن امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ ایگزیکٹو آرڈر دہشتگرد ریاست اوہائیو صدر ٹرمپ فینٹانائل کریڈٹ کارڈ محکمہ خزانہ منی لانڈرنگ وائٹ ہاؤس