نیشنل کونسل فارڈویلپمنٹ کا اجلاس، کونسل کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)نیشنل کونسل فار ڈویلپمنٹ کونسل کا اجلاس صدر اسلم پرویز ایڈوکیٹ کی صدارت میں ہوا، جس میں کونسل کی منیجنگ کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی، اجلاس میں کونسل کے آئندہ کے پروگراموںکے حوالے سے فیصلے کئے گئے جبکہ کونسل کی اب تک کی کارکردگی پر اطمینان کااظہار کیاگیا، اجلاس میںفیصلہ کیاگیا کہ سندھ اور اور خاص طورپر حیدرآباد میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں پر عوام کی آگاہی کیلئے ایک سمینار اور گروپ ڈسکیشن کا مقامی ہوٹل میں انعقاد کیاجائیگا، اس کے علاوہ تعلیم، روڈ، انفراسٹرکچر سمیت دیگر مسائل کیلئے عوامی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ حکومتی اراکین کو بھی اس حوالے سے لیٹر ارسال کئے جائیں گے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کونسل کے صدر اسلم پرویز ایڈوکیٹ، جنرل سیکریٹری مظفر عالم صدیقی اور عمر حیات خانزادہ نے کہاکہ کونسل کے قیام کا مقصد حیدرآباد میں نوجوانوں میں پائی جانے والی مایوسی کو دور کرنے اور مثبت و تعلیمی ماحول پیدا کرنے کیلئے نوجوانوں کیلئے اداروں کا قیام عمل میں لانا ہے، انہوں نے کہاکہ حیدرآباد تعلیم و تہذیب کے لحاظ سے منفرد شہر کے طورپر جانا جاتا ہے، یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے افراد نے ملک اور بیرون ملک میں اپنا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ اس شہر کی بھی شناخت بنے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔