ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ متنازع ٹوئٹ کیس: عدالت نے اسٹیٹ کونسل مقرر کرنے کیلئے مراسلہ لکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازع ٹویٹ کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ایمان مزاری کیلئے اسٹیٹ کونسل مقرر کرنے کیلئے مراسلہ لکھ دیا۔
ہادی علی چٹھہ کیجانب سے کفایت اللہ وزیر پہلے ہی اسٹیٹ کونسل مقرر ہیں، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ کیجانب سے مراسلہ لکھا گیا۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت میں گواہان پر جرح کرنے کا حکم دیا، آج سماعت میں 4 گواہان کیجانب سے بیانات ریکارڈ کروا دیئے گئے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کردی، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہادی علی چٹھہ ایمان مزاری عدالت نے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔