امریکا سے تعاون چاہیے دھمکیاں نہیں‘ نائیجیریا کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی دھمکیوں پر نائیجیریا کا ردعمل آگیا۔ وزیراطلاعات محمد ادریس ملاگی کا کہنا ہے کہ ہمیں تعاون چاہیے دھمکیاں نہیں۔ پرتشدد حملوں کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مضبوط سیکورٹی اتحاد درکار ہے ۔ عیسائیوں کی نسل کشی کا امریکی الزام غلط فہمی ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ نائیجیریا میں حملے مذہبی نہیںہیں۔ شدت پسند مسلمانوں اور عیسائیوں ، دونوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھے بغیر عیسائیوں کو ہدف بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حکومت کسی مذہب کیخلاف قتل عام کی اجازت نہیں دے رہی۔ نائیجیریا مذہبی آزادی کا احترام کرتا ہے ہم سب ہی اس وقت تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔