امریکا سے تعاون چاہیے دھمکیاں نہیں‘ نائیجیریا کا سخت ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ابوجا (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی دھمکیوں پر نائیجیریا کا ردعمل آگیا۔ وزیراطلاعات محمد ادریس ملاگی کا کہنا ہے کہ ہمیں تعاون چاہیے دھمکیاں نہیں۔ پرتشدد حملوں کے خاتمے کے لیے امریکا کے ساتھ مضبوط سیکورٹی اتحاد درکار ہے ۔ عیسائیوں کی نسل کشی کا امریکی الزام غلط فہمی ہے۔وزیراطلاعات نے کہا کہ نائیجیریا میں حملے مذہبی نہیںہیں۔ شدت پسند مسلمانوں اور عیسائیوں ، دونوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھے بغیر عیسائیوں کو ہدف بنانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ حکومت کسی مذہب کیخلاف قتل عام کی اجازت نہیں دے رہی۔ نائیجیریا مذہبی آزادی کا احترام کرتا ہے ہم سب ہی اس وقت تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔