پی ٹی اے سے تصدیق شدہ آئی فون 17 سیریز پاکستان میں لانچ، قیمتوں کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: ایپل کی نئی آئی فون 17 سیریز کو پاکستان میں باضابطہ طور پر متعارف کرادیا گیا ہے۔ یہ سیریز ملک میں ایپل کے واحد مجاز تقسیم کار مرکنٹائل کے ذریعے لانچ کی گئی ہے، جو پی ٹی اے سے منظور شدہ اور مقامی نیٹ ورکس کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ڈیوائسز فراہم کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق آئی فون 17 سیریز میں چار ماڈلز شامل ہیں: آئی فون 17، آئی فون 17 پرو، آئی فون 17 پرو میکس ور الٹرا سلم آئی فون ایئر۔ تمام ماڈلز پی ٹی اے سے رجسٹرڈ ہیں اور صارفین کو ان کی رجسٹریشن کے لیے کسی اضافی فیس کی ادائیگی نہیں کرنی ہوگی۔
مرکنٹائل کے مطابق نئے آئی فونز باضابطہ وارنٹی اور بعد از فروخت سپورٹ کے ساتھ دستیاب ہوں گے، جس سے صارفین کو خریداری کے بعد مکمل اعتماد اور اطمینان حاصل ہوگا۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ صرف مستند چینلز سے خریداری کرنے والے صارفین ہی ان سہولتوں سے مستفید ہوسکیں گے۔
قیمتوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آئی فون 17 کا 256 جی بی ماڈل 3 لاکھ 99 ہزار روپے اور 512 جی بی ماڈل 4 لاکھ 82 ہزار 500 روپے میں دستیاب ہوگا۔
آئی فون 17 پرو کی قیمتیں 256 جی بی کے لیے 5 لاکھ 20 ہزار 500 روپے، 512 جی بی کے لیے 6 لاکھ 3 ہزار 500 روپے اور 1 ٹی بی ماڈل کے لیے 6 لاکھ 86 ہزار 500 روپے مقرر کی گئی ہیں۔
اسی طرح آئی فون 17 پرو میکس کا 256 جی بی ماڈل 5 لاکھ 65 ہزار روپے، 512 جی بی 6 لاکھ 48 ہزار 500 روپے، 1 ٹی بی 7 لاکھ 32 ہزار روپے، جبکہ 2 ٹی بی ماڈل 8 لاکھ 98 ہزار 500 روپے میں دستیاب ہوگا۔
الٹرا سلم آئی فون ایئرکی قیمتیں 256 جی بی کے لیے 4 لاکھ 80 ہزار روپے، 512 جی بی کے لیے 5 لاکھ 63 ہزار روپے اور 1 ٹی بی ماڈل کے لیے 6 لاکھ 46 ہزار 500 روپے مقرر کی گئی ہیں۔
ویب ڈیسک
دانیال عدنان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آئی فون 17 پرو ہزار 500 روپے جی بی کے لیے ہزار روپے بی ماڈل
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔