وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے عمران خان کی ہدایت پر اپنا استعفیٰ گورنر خیبر پختونخوا کو ارسال کر دیا ہے۔ اس کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس میں مکمل خاموشی چھا گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے ساتھ اسپیکر ہاؤس اور گورنر ہاؤس میں سیاسی بیٹھکوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ رات گئے سے جاری ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق، علی امین گنڈاپور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب تک اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ وہ گزشتہ رات اسلام آباد سے پشاور پہنچے اور اپنا استعفیٰ ارسال کیا۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے حکام کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ ہاؤس میں موجود ہیں تاہم کسی قسم کی میٹنگ یا اجلاس نہیں بلایا گیا۔

کابینہ اجلاس ملتوی

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے آج ہونے والا کابینہ اجلاس بھی ملتوی کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ کا 40واں اجلاس آج دن 2 بجے ہونا تھا، تاہم وزیراعلیٰ کی طرف سے  استعفیٰ دینے کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ کابینہ کا اجلاس اب نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے بعد ہو گا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں مکمل خاموشی ہے، کوئی خاص سرگرمیاں نہیں ہو رہیں، جبکہ سیاسی ملاقاتیں بھی معطل ہیں۔ بتایا گیا کہ علی امین گنڈاپور اپنے دفتر میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ اسٹاف کے اعلیٰ حکام بھی ہیں۔ انہوں نے رات کو ہی ہدایت جاری کی تھی کہ کابینہ کا اجلاس نہیں ہو گا۔

‘سرکاری میٹنگز اور اجلاس نہیں ہوں گے’

وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد آج کے لیے شیڈول تمام سرگرمیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور علی امین پورا دن دفتر میں گزاریں گے۔

ذرائع کے مطابق آج وزیراعلیٰ کا مصروف شیڈول تھا۔ صبح 9 بجے ایک محکمے کی میٹنگ، چند اہم ملاقاتیں، اور دوپہر 2 بجے کابینہ اجلاس تھا، جبکہ شام 5 بجے تک دیگر آفیشل سرگرمیاں بھی طے تھیں۔ تاہم استعفیٰ کے بعد تمام سرگرمیاں، میٹنگز اور ملاقاتیں کینسل کر دی گئی ہیں۔

‘علی امین پرانے کام نمٹا رہے ہیں’

وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور آج دفتری امور نمٹا رہے ہیں اور فائلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ مصروفیات کے باعث کچھ فیصلوں کی باضابطہ منظوری باقی تھی، جس پر وہ آج دستخط کر رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ آج وزیراعلیٰ کی کوئی سرکاری ملاقات طے نہیں، تاہم چیف سیکریٹری اور دیگر حکام ان سے ملاقات کریں گے، جبکہ شام کو چند قریبی حلقے ان سے الوداعی ملاقات کریں گے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں خاموشی، اسپیکر ہاؤس میں سیاسی گہماگہمی

علی امین کے استعفیٰ کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس میں خاموشی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی واقع اسپیکر ہاؤس سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ رات گئے نامزد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اراکین اسمبلی اسپیکر ہاؤس پہنچے اور مشاورت کی۔ اجلاس میں اسپیکر اور دیگر ہم خیال اراکین نے شرکت کی۔

علی امین گنڈاپور وزیر اعلیٰ ہاؤس چھوڑنے کی تیاری میں

وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ ہاؤس چھوڑنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ بتایا گیا کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں اکیلے رہائش پذیر تھے، ان کی فیملی ساتھ نہیں تھی۔ ان کے بھائی اور بیٹا وقتاً فوقتاً آتے رہے، جبکہ دیگر اہل خانہ اسلام آباد میں مقیم تھے۔

ذرائع کے مطابق علی امین زیادہ تر وقت پختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں گزارنے کو ترجیح دیتے تھے۔

علی امین کے استعفے کے بعد اپوزیشن جماعتیں سرگرم

وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے کے بعد خیبر پختونخوا میں اپوزیشن جماعتیں بھی سرگرم ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر اور (ن) لیگ کے ایم پی اے عباد اللہ اسلام آباد سے پشاور پہنچ گئے۔ انہوں نے گورنر سے ملاقات کی۔

ذرائع کے مطابق آج اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہو گا، جس میں وزارت اعلیٰ کے لیے مشترکہ امیدوار لانے پر بات چیت کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا اسپیکر ہاؤس اسلام آباد ہاؤس میں رہے ہیں ہاؤس کے کے بعد

پڑھیں:

بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے  محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔ 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا