سپر ٹیکس: قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، جسٹس مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
سپر ٹیکس: قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے، جسٹس مندوخیل WhatsAppFacebookTwitter 0 9 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل خان نے ریمارکس دیئے کہ ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں ہو سکتا ہے کوئی اچھا مشورہ مل جائے، کسی قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی 5 نے سپر ٹیکس سے متعلق دائر درخواستوں سماعت کی، سماعت کے دوران بنچ اور وکلاء کے درمیان آئینی، قانونی اور معاشی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
معروف قانون دان فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو ڈائریکشن سپریم کورٹ دے، پارلیمنٹ اس کی پابند ہوتی ہے، عدالت کو حکومت کو رعایتوں میں ترمیم کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ اس سے آئینی دائرہ کار متاثر ہوتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں، ہو سکتا ہے کوئی اچھا مشورہ مل جائے، کسی قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرتی ہے اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی رعایتوں کا تعلق ماضی کے قانون سے ہی ہوتا ہے۔
وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت نے ایک رعایت دی ہے، مجھے نہ ملے تو اس کا تعلق ماضی کے قانون سے ہی ہوتا ہے۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ حکومت انسینٹیو دے رہی ہے، حکومت کچھ نہیں دے رہی، یہاں بات منافع اور انکم کی ہو رہی ہے، میری پراپرٹی ہے میں نے آپ کو بیچ دی، اب فائدہ ہو یا نقصان وہ آپ کا ہے۔
فروغ نسیم نے کہا کہ رعایت کی حد تک عدالتوں کو حکومت کو ترمیم کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے، انہوں نے پوچھا کہ کل چھبیسویں ترمیم سنیں گے یا سپر ٹیکس کی سماعت ہو گی؟، جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کل سپر ٹیکس ہی سنیں گے۔
بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم پاکستان نے ہمارے دل جیت لیے، بھرپور حمایت پر شکرگزار ہیں، فلسطینی سفیر وزیراعظم پاکستان نے ہمارے دل جیت لیے، بھرپور حمایت پر شکرگزار ہیں، فلسطینی سفیر اسرائیل نے غزہ میں روزانہ کتنا جانی و مالی نقصان کیا؟ نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا انتخاب: اپوزیشن کس طرح نمبر گیم سے بازی پلٹ سکتی ہے؟ غزہ امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن کے قیام کا تاریخی موقع ہے، وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج طلب کرلیا مسلم لیگ ن کا وفد صدر مملکت کو منانے میں کامیاب، بیان بازی نا کرنے پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔