سستی توانائی کے میدان میں خیبر پختونخوا نے اہم سنگ میل عبور کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے 2025 کے دوران صاف اور سستی توانائی کے میدان میں اہم سنگ میل عبور کر لیا۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے مطابق صوبے میں 62.8 میگاواٹ کے تین ہائیڈرو پاور منصوبے مکمل کر لیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 40.8 میگاواٹ کوٹو، 11.8 میگاواٹ کرورہ اور 10.2 میگاواٹ جبوری منصوبے مکمل ہوگئے ہیں جن سے سالانہ 347 ملین یونٹس صاف بجلی کی پیداوار شروع ہوگی، منصوبوں سے صوبے کو سالانہ 4.
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں سے عوام کو مزید سستی اور معیاری بجلی کی فراہمی ممکن ہوگئی، صاف توانائی کے فروغ سے مقامی صنعتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ متوقع ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے تحت مزید ہائیڈرو پاور منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، قدرتی آبی وسائل کے مؤثر استعمال سے توانائی میں خود کفالت کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ صاف توانائی، خوشحال معیشت اور مضبوط خیبر پختونخوا حکومت کی ترجیح ہے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان خیبر پختونخوا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔