سپر ٹیکس کیس، قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے جسٹس مندوخیل
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 اکتوبر ۔2025 ) سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل خان نے ریمارکس دیئے کہ ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں ہو سکتا ہے کوئی اچھا مشورہ مل جائے، کسی قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرتی ہے .
(جاری ہے)
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی 5 نے سپر ٹیکس سے متعلق دائر درخواستوں سماعت کی، سماعت کے دوران بنچ اور وکلا کے درمیان آئینی، قانونی اور معاشی پہلوﺅ ں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا معروف قانون دان فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو ڈائریکشن سپریم کورٹ دے، پارلیمنٹ اس کی پابند ہوتی ہے، عدالت کو حکومت کو رعایتوں میں ترمیم کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ اس سے آئینی دائرہ کار متاثر ہوتا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سپر ٹیکس کہا کہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔