الوئوں کے بچائو کی خاطر قانون میں نئی دفعات شامل، بھاری جرمانہ اور7 سال تک قید ہوسکتا ہے: محکمہ والڈلائف
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
الوئوں کی بقا کے بچائو کی خاطر وائلڈ لائف نے قانون میں نئی دفعات شامل کرلیں۔ رپورٹ کے مطابق غیر قانون طور پر الو رکھنے پربھاری جرمانہ اورسات سال تک قید ہوسکتی ہے۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں کالے جادو اورتوہمات کیلئے الوکو مارا جا رہا ہے۔ ایڈیشنل چیف وائلڈ لائف رینجرزسید کامران بخاری کا کہنا ہے کہ جادو اورتوہم پرستی کی دین اسلام میں بھی ممانعت کی گئی ہے،بھاری سزاوں کا فیصلہ نہ صرف الو کی نسل کوبچانے میں معاون ہوگا بلکہ یہ ماحول اورانسانیت دوست اقدام بھی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔