سوشل میڈیا شو ’لازوال عشق’ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے شو ’لازوال عشق‘ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
درخواست چیئرمین امن ترقی پارٹی فائق شاہ کی جانب سے دائر کی گئی، جسے عدالت نے ڈائری نمبر الاٹ کر دیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پروگرام میں دکھایا جانے والا مواد معاشرتی اقدار اور قومی اخلاقیات کے منافی ہے اور یہ فحاشی و اخلاقی بگاڑ کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’لازوال عشق‘ ریئلٹی شو کے خلاف شکایات پر پیمرا کا ردعمل آگیا
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ عدالت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) کو ہدایت کرے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر ہونے والے مواد کی سخت نگرانی کریں۔
مزید استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رہنمائی طلب کرے تاکہ ایسے مواد کے بارے میں شرعی و اخلاقی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ’میری امی کو لازوال عشق پسند آیا، میرے لیے یہی اہم ہے‘، پابندی کے مطالبے پر عائشہ عمر کا ردعمل
درخواست میں وفاقی حکومت، پی ٹی اے، پیمرا، اسلامی نظریاتی کونسل اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن (NCCI) کو فریق بنایا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹرٹینمنٹ لازوال عشق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرٹینمنٹ لازوال عشق لازوال عشق
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔