پنجاب بھر میں پولیس کا مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈان جاری، 2500 سے زائد افراد زیرحراست WhatsAppFacebookTwitter 0 15 October, 2025 سب نیوز

لاہور (آئی پی ایس )لاہور سمیت پنجاب بھر میں پولیس کا مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈان جاری ہے۔مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈان میں اب تک 25 سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور سے 251 افراد ،گوجرانوالہ سے 135، شیخوپورہ سے 178 اور سیالکوٹ سے 128 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

گجرات سے 80، راولپنڈی سے 196 اور منڈی بہاالدین سے 210 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ اٹک اور صادق آباد سے بھی مذہبی جماعت کے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کا بتانا ہے کہ ملزمان کے خلاف پنجاب بھر کے تھانوں میں 76 مقدمات درج کیے گئے ہیں، مظاہرین کے حملوں میں ایک پولیس انسپیکٹر شہید اور 250 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔لاہور میں سب سے زیادہ 142 افسران اور اہلکار زخمی ہوئے، مظاہرین کے حملوں سے شیخوپورہ میں 48 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی:ناردرن بائی پاس پرافغان بستی میں آپریشن، 300 سے زائدغیرقانونی مکانات اور دکانیں مسمار کراچی:ناردرن بائی پاس پرافغان بستی میں آپریشن، 300 سے زائدغیرقانونی مکانات اور دکانیں مسمار نوجوانوں میں بے چینی،جین زی اور فوج کی خاموش حمایت ،دنیا کے مختلف ممالک میں حکومتوں کی چھٹی حماس نے خود ہتھیار نہ ڈالے تو ہم طاقت کے ذریعے غیرمسلح کردیں گے؛ ٹرمپ عالمی مثبت جائزے پاکستانی معیشت میں پیشرفت کا ثبوت ہیں، وفاقی وزیر خزانہ ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں مزید توسیع کر دی طالبان کی درخواست پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈان پولیس کا

پڑھیں:

آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہےکہ وہ ہر شہری کےحقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے: سپریم کورٹ

---فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے پولیس کی زیرِ حراست ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

زیرِ حراست ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ تشدد، غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک، جن میں ذاتی وقار کی پامالی شامل ہو، کسی بھی صورتِحال میں جائز نہیں، بعض اوقات پولیس کی جانب سے تشدد ماورائے عدالت قتل کا باعث بنتا ہے کیونکہ پولیس عملی طور پر استثنیٰ کے مفروضے کے تحت مبینہ مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتی ہے۔

پولیس حراست میں ایک اور شہری کی ہلاکت، پولیس رپورٹ مسترد

کراچی پولیس حراست میں ایک اور شہری سکندر کی ہلاکت...

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس عمل کو روکنے کے لیے پولیس فورس پر ایک مؤثر، خصوصی اور بیرونی نگرانی ناگزیر ہے، زندگی کے حق کو سب سے اعلیٰ انسانی حق قرار دیا گیا ہے، آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ہر شہری کے حقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے، غیرقانونی حراست، گرفتاری، بربریت، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف یہ آئینی ضمانتیں بنیادی اور قانونی اصولوں کی اساس ہیں۔

سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ غیرقانونی حراست اور تشدد کسی بھی صورت میں نہ تو پسندیدہ ہیں اور نہ ہی قابلِ جواز۔ بنیادی حقوق کا اصول ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کو یقینی بنانا ہے، پولیس فورس قانون کی محافظ ہے اور آئین میں درج بنیادی حقوق کے فریم ورک کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔ پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، قانون پر عمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، قانون پرعمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچانا شفاف ٹرائل کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے، پولیس کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن گرفتاری آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔

قصور: عدالت کے باہر پولیس کی حراست میں ملزم فائرنگ سے ہلاک

پولیس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے باہر فائرنگ کرنے والے دونوں ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف گرفتاری، غیرانسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا مجرمانہ فعل ہے، غیر انسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا مجرمانہ فعل مس کنڈکٹ میں بھی شمار ہوتا ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزاران پنجاب پولیس کے ایک منظم ادارے کے اہلکار تھے، ان درخواست گزاران کی ملازمت کی شرائط متعلقہ پولیس قوانین اور 1975 کے قواعد کے تحت ہیں، موجودہ کیس میں زریاب خان کی غیرقانونی حراست، بدسلوکی اور تشدد کے الزامات تھے، یہ الزامات درخواست گزاران کے خلاف بطور پولیس اہلکار لگائے گئے تھے۔ درخواست گزاران نے اپنے اس فرض کی خلاف ورزی کی، درخواست گزاران کا یہ عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی، ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن، ڈی ایس پی ٹریفک سمیت 21 سرکاری گاڑیوں کے چالان ٹکٹ جاری
  • اسلام آباد پولیس کا منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 72 ملزمان گرفتار
  • دہلی کار بلاسٹ معاملے کو لیکر اتراکھنڈ میں این آئی اے کا چھاپہ، امام جماعت سمیت 2 مسلمان گرفتار
  • سری لنکا میں سیلاب سے ہلاکتیں 123 تک جا پہنچیں؛ 3 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد متاثر
  • پنجاب: 48 گھنٹوں میں 7 کروڑ روپے سے زائد کے ٹریفک چالان
  •  صوبہ بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کریک ڈاؤن جاری
  • آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہےکہ وہ ہر شہری کےحقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے: سپریم کورٹ
  • زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
  • کالعدم مذہبی جماعت کے 181 کارکنان کو رہا کرنیکا حکم
  • بدل دو نظام تحریک کاباقاعدہ آغاز،حافظ نعیم کا پنجاب کے بلدیاتی قانون کیخلاف مظاہروں کا اعلان