شرمین علی طلاق کے بعد کونسے خوف میں مبتلا ہیں؟ اداکارہ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ شرمین علی نے اپنی طلاق اور اس کے بعد پیش آنے والی ذہنی مشکلات کے بارے میں انکشاف کیا ہے۔
میرا درد نہ جانے کوئی، سنگِ مر مر، آتش، قسمت، پیار کے صدقے، پر دیس اور دل بنجارا جیسے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ شرمین علی نے حال ہی میں ایک مارننگ میں گفتگو کے دوران اپنی ذاتی زندگی پر کھل کر بات کی۔
شرمین علی نے بتایا کہ ان کی زندگی میں طلاق سب سے مشکل مرحلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ مضبوط مزاج کی مالک رہی ہیں، لیکن علیحدگی کے فیصلے کے بعد ان کے اندر خوف اور عدم تحفظ کے احساسات پیدا ہوئے۔
انہوں نے شوہر سے علیحدگی کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی ذہنی صحت کے لیے لیا تھا، حالانکہ خاندان میں کسی نے ان کی حمایت نہیں کی۔
اداکارہ کے مطابق شوہر سے طلاق کے بعد انہیں ’چھوڑ دیے جانے‘ کا شدید خوف لاحق ہوگیا ہے اور اب وہ قریبی رشتوں میں بھی کھونے کے ڈر سے اپنی خودداری قربان کر دیتی ہیں۔
شرمین نے اعتراف کیا کہ وہ اب بھی ذہنی مشکلات کا شکار ہیں اور تاحال اس خوف پر قابو نہیں پا سکیں۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’کوئی انہیں چھوڑ جائے گا‘ وہ نہیں جانتیں کہ اس کیفیت سے کیسے باہر نکلا جائے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔