اسلام آباد ہائیکورٹ کا کتوں کو ہلاک کرنے پر متعلقہ حکام کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا عندیہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی دارالحکومت میں آوارہ کتوں کے خاتمے اور نسل کشی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس خادم حسین سومرو نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن سے جواب طلب کرلیا۔
عدالت نے عندیہ دیا کہ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے کتوں کو مارنے کی تصدیق ہوئی تو مقدمہ درج ہوگا، درخواست گزار نیلوفر کی مرکزی کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست منظور کرلی گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے آوارہ کتوں کے خاتمے کے خلاف کیس میں نوٹس جاری کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن 9 اکتوبر کے واقعے پر جواب جمع کروائیں، 9 اکتوبر کو مردہ کتوں کو دیکھنے والی عینی شاہد خاتون عدالت میں پیش ہوئی، عدالت نے مردہ کتوں کو گاڑی میں دیکھنے والی عینی شاہد خاتون کا بیان ریکارڈ کا حصہ بنا دیا۔
عینی شاہد خاتون نے کہا کہ نو اکتوبر کو اسلام آباد میں سی ڈی اے آفس کے پاس ایک گاڑی دیکھی ، اس گاڑی میں سینکٹروں کتے مرے ہوئے پڑے تھے۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا کہ اگر کتوں کو مارنے کی تصدیق ہوئی تو ایف آئی آر درج ہوگی۔
وکیل التمش سعید نے مؤقف اپنایا کہ اسلام آباد میں سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کتوں کو پکڑ کر گولی ماردیتے ہیں، اس عمل کو روکنے کے حوالے سے 2020 میں ایک پالیسی بنی تھی، عدالت متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرے اور اس عمل کو روکے۔
عدالت نے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن سے جواب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد کتوں کو
پڑھیں:
شوگر ملز نہ چلانے کیخلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ میں سماعت، سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر طلب
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے گنے کی کرشنگ شروع نہ کرنے اور شوگر ملز بند رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کر لیا۔
درخواستگزار نے عدالت کو بتایا کہ شوگر کین ایکٹ کے مطابق کرشنگ سیزن 15 نومبر سے شروع ہونا تھا، جبکہ شوگر ملز 30 نومبر تک چلانا ضروری ہیں۔ تاہم 28 نومبر تک ملز بند پڑی ہیں جس کے باعث گنا گل سڑ رہا ہے۔
درخواستگزار نے مزید کہا کہ گنے کی کٹائی نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی کاشت بھی متاثر ہو رہی ہے اور کسانوں کا معاشی نقصان ہو رہا ہے۔
عدالت نے سیکریٹری زراعت اور کین کمشنر کو طلب کرتے ہوئے سماعت 5 دسمبر تک ملتوی کر دی۔