data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لندن میں گزشتہ سال موبائل فون چوری اور چھیننے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جہاں 80 ہزار سے زائد فونز کا سراغ نہیں ملا، جن کی مالیت اربوں روپے بنتی ہے۔

میٹروپولیٹن پولیس کی تازہ تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ صرف مقامی سطح پر ہونے والی چھوٹی وارداتیں نہیں بلکہ ایک منظم بین الاقوامی نیٹ ورک کے تحت کیے جا رہے ہیں، جو چوری شدہ فونز کو ہانگ کانگ، چین اور الجزائر جیسی عالمی منڈیوں میں فروخت کرتا ہے۔

پولیس نے شمالی لندن میں حالیہ چھاپوں کے دوران تقریباً 2 ہزار چوری شدہ موبائل فونز اور 2 لاکھ پاؤنڈ (تقریباً 7 کروڑ 49 لاکھ روپے) نقدی برآمد کی۔ یہ کارروائیاں اُن دکانداروں اور درمیانے درجے کے خریداروں کے خلاف کی گئیں جو اس نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

یہ نیٹ ورک اُس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے اپنے چوری شدہ آئی فون کی لوکیشن ٹریک کر کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب ایک گودام تک پولیس کی رہنمائی کی، جہاں سے ہانگ کانگ روانہ ہونے والے کنٹینرز میں 1000 سے زائد چوری شدہ آئی فونز برآمد ہوئے۔

سینئر ڈیٹیکٹو مارک گوئن کے مطابق یہ کسی اکا دکا چور کا کام نہیں بلکہ ایک صنعتی سطح پر منظم کاروبار ہے۔ چوری شدہ فونز بیرون ملک بعض اوقات 5000 ڈالر تک فروخت ہو سکتے ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ نیٹ ورک تین درجوں پر مشتمل ہے: نچلی سطح پر وہ چور جو ای بائیکس پر سوار ہو کر فون چھینتے ہیں، درمیانی سطح پر وہ لوگ جو ان فونز کو خرید کر آگے فروخت کرتے ہیں، اور اعلیٰ سطح پر وہ ایکسپورٹرز جو انہیں غیر ملکی منڈیوں میں بھیجتے ہیں۔

2023 میں 64 ہزار فونز چوری ہونے کی اطلاع ملی تھی، جب کہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 80 ہزار تک جا پہنچی۔ مارچ 2024 سے فروری 2025 کے دوران ایک لاکھ سے زائد چوری کے کیسز رپورٹ ہوئے، مگر صرف 495 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی—یعنی ہر 200 میں سے صرف ایک کیس میں قانونی کارروائی ممکن ہو سکی۔

رپورٹ کے مطابق پولیس نے پچھلے مہینے 40 ہزار پاؤنڈ کی نقدی اور 5 چوری شدہ فون برآمد کیے، جب کہ دسمبر سے اب تک مجموعی طور پر 4 ہزار آئی فونز برآمد کیے گئے ہیں، جو جنوب مغربی لندن کے پٹنی میں واقع اسٹور روم میں رکھے گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ جرم نہ صرف انتہائی منافع بخش ہے بلکہ اس میں خطرہ بھی نسبتاً کم ہے۔ ایک چور اوسطاً فی فون 300 پاؤنڈز کماتا ہے، جو کہ کم از کم اجرت سے تین گنا زیادہ ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چوری شدہ نیٹ ورک

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت