حیدرآباد کے سرکاری ،نجی اسپتال و کلینک ڈینگی کے مریضوں سے بھرگئے،وسیم حسین
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم حیدرآباد کے رکن قومی اسمبلی وسیم حسین نے شہر بھر میں ڈینگی کے پھیلاؤ پر سخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد کے سرکاری نجی اسپتال و کلینک ڈینگی کے مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں ،روزانہ کی بنیاد پر معصوم شہری ڈینگی کے ہلاکت خیز وار کا سامنا کر رہے ہیں جس کے باعث معصوم شہری زندگی موت کی حالت میں مبتلا اور ہلاک ہو رہے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنر، مئیر حیدرآباد ٹاؤن چئیرمنز و یو سی چیئرمین کروڑوں روپے کے ماہانہ فنڈز رکھنے کے باوجود چاند پر گئے ہوئے ہیں اور انہیں معصوم شہریوں کی تکلیف کا کوئی احساس نہیں ہے، ہونا یہ چاہیے تھا کہ اتنے دن گزرنے اور معصوم اموات کے باعث شہری بلدیاتی قیادت ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کے ساتھ اجلاس منعقد ہو جاتے جس میں عوام کی مشکلات و ڈینگی کے پھیلاؤ کے سدباب کیلیے اقدامات تجویز کیے جاتے کم از کم پورے شہر میں بیک وقت تمام گلی کوچوں میں معیاری مچھر مار اسپرے کیا جاتا عوامی غم و غصے کی شدت کے باعث کہیں کہیں اسپرے بھی ہوتا ہے تو وہ بس سوشل میڈیاکیلیے خبر بنانے کیلیے ہوتا ہے ماضی میں حیدرآباد میں ملیریا کنٹرول پروگرام کے ذریعے مچھر مار اقدامات کیے جاتے تھے لیکن آج اس پروگرام کا کوئی وجود نظر نہیں آتا، مئیر حیدرآباد ٹاؤن چئیرمنز یو سی چئیرمن کو میں متنبہ کرتا ہوں کہ وہ کرپشن میں اس قدر مگن ہیں کہ ان کو کچھ نظر نہیں آ رہا ہے لہٰذا وہ اپنی آنکھیں کھول لیں کہ اس سے پہلے جو لوگ اس ڈینگی کے ہلاکت خیز حملوں سے اپنے پیاروں کی جانیں کھو رہے ہیں اور باقی وہ غریب جو مالی نقصان برداشت کر رہے ہیں ان کا عوامی غم و غصہ احتجاج میں تبدیل ہو جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حیدرا باد کے ڈینگی کے رہے ہیں
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔